تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 66
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۶ سورة ال عمران علاج کی چار صورتیں تو عام ہیں؛ دوا سے ، غذا سے عمل سے، پر ہیز سے علاج کیا جاتا ہے۔ایک پانچویں قسم بھی ہے جس سے سلب امراض ہوتا ہے وہ تو جہ ہے حضرت مسیح علیہ السلام اسی توجہ سے سلپ امراض کیا کرتے تھے اور یہ سلب امراض کی قوت مومن اور کافر کا امتیاز نہیں رکھتی بلکہ اس کے لئے نیک چلن ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔نبی اور عام لوگوں کی توجہ میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ نبی کی توجہ کسی نہیں ہوتی ، وہی ہوتی ہے۔آج کل ڈوئی جو بڑے بڑے دعوے کرتا ہے یہ بھی وہی سلب امراض ہے۔تو جہ ایک ایسی چیز ہے کہ اُس سے سلب ڈنوب بھی ہو جاتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور مسیح علیہ السلام کی توجہ میں یہ فرق ہے کہ مسیح کی توجہ سے تو سلب امراض ہوتا تھا مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے سلب ذنوب ہوتا تھا اور اس وجہ سے آپ کی قوت قدمی کمال کے درجہ پر پہنچی ہوئی تھی۔دعا بھی توجہ ہی کی ایک قسم ہوتی ہے۔توجہ کا سلسلہ کڑیوں کی طرح ہوتا ہے جو لوگ حکیم اور ڈاکٹر ہوتے ہیں اُن کو اس فن میں مہارت پیدا کرنی چاہئے۔مسیح کی توجہ چونکہ زیادہ تر سب امراض کی طرف تھی اس لئے سلب ذنوب میں ان کے کامیاب نہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ جو جماعت انہوں نے تیار کی وہ اپنی صفائی نفس اور تزکیہ باطن میں ان مدارج کو پہنچ نہ سکی جو جلیل الشان صحابہ کو ملی اور یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی با اثر تھی کہ آج اس زمانہ میں بھی تیرہ سو برس کے بعد سلب ذنوب کی وہی قوت اور تاثیر رکھتی ہے جو اُس وقت رکھتی تھی۔مسیح اس میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۳۱ /اگست ۱۹۰۲ صفحه ۶) فَاعْلَمْ أَنَا نُؤْمِنُ بِإِحْيَاءِ الْجَارِي و أخي المَوْتَى بِإِذْنِ اللهِ ) جان لو کہ ہم احیاء اعجازی وَخَلَقٍ إِعْجَازِي، وَلَا نُؤْمِنُ بِإِحْيَاء اور خلقِ اعجازی پر ایمان لاتے ہیں نہ کہ حقیقی طور پر زندہ حَقِيقِي وَخَلَقٍ حَقِيقِي كَاحْيَاءِ اللهِ کرنے اور پیدا کرنے پر جیسا کہ خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے وَخَلْقِ اللهِ، وَلَوْ كَانَ كَذلِك لنقابة اور پیدا کرتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتو یہ احیاء اور خلق ( خدا تعالیٰ الْخَلْقُ وَالْإِحْيَاءُ، الخلق والاحياء، وَقَالَ اللهُ سُبْحَانَہ کے خلق اور احیاء سے ) متشابہ ہو جاتے۔اللہ تعالی نے فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ وَمَا قَالَ فَيَكُونَ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ کہا ہے اور یہ نہیں کہا فَيَكُونُ حَيًّا حَيَّا بِإِذْنِ اللهُ وَمَا قَالَ فَيَصِيرُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ۔اور نہ یہ فرمایا کہ فَيَصِيرُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ -