تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 64
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۴ سورة ال عمران ہمارے کم توجہ علماء کی یہ غلطی ہے کہ اُن (مسیح علیہ السلام) کی نسبت وہ گمان کرتے ہیں کہ گویا وہ بھی خالق العالمین کی طرح کسی جانور کا قالب تیار کر کے پھر اُس میں پھونک مارتے تھے اور وہ زندہ ہو کر اڑ جاتا اور مُردہ پر ہاتھ رکھتے تھے اور وہ زندہ ہو کر چلنے پھرنے لگتا تھا اور غیب دانی کی بھی اُن میں طاقت تھی اور اب تک مرے بھی نہیں مع جسم آسمان پر موجود ہیں اور اگر یہ باتیں جو ان کی طرف نسبت دی گئی ہیں صحیح ہوں تو پھر اُن کے خالق العالم اور عالم الغیب اور محی اموات ہونے میں کیا شک رہا؟ پس اگر اس صورت میں کوئی عیسائی ان کی الوہیت پر استدلال کرے اس بنا پر کہ لوازم شے کا پایا جانا وجود شے کو مستلزم ہے تو ہمارے بھائی مسلمانوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ اگر کہیں کہ دُعا سے ایسے معجزات ظہور میں آتے تھے تو یہ کلام الہی پر زیادت ہے کیونکہ قرآن کریم سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مثلاً پھونک مارنے سے وہ چیز جو ہیئت طیر کی طرح بنائی جاتی تھی اُڑنے لگتی تھی۔دُعا کا تو قرآن کریم میں کہیں بھی ذکر نہیں اور نہ یہ ذکر ہے کہ اُس ہیئت طیر میں در حقیقت جان پڑ جاتی تھی۔یہ تو نہیں چاہیئے کہ اپنی طرف سے کلام الہی پر کچھ زیادت کریں یہی تو تحریف ہے جس کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت ہوئی۔پھر جس حالت میں جان پڑنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ معالم التنزیل اور بہت سی اور تفسیروں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہیئت طیر تھوڑی دیر اڑ کر پھر مٹی کی طرح زمین پر گر پڑتی تھی تو بجز اس کے اور کیا سمجھا جائے کہ وہ دراصل مٹی کی مٹی ہی تھی۔اور جس طرح مٹی کے کھلونے انسانی کلوں سے چلتے پھرتے ہیں وہ ایک نبی کی رُوح کی سرایت سے پرواز کرتے تھے ورنہ حقیقی خالقیت کے ماننے سے عظیم الشان فساد اور شرک لازم آتا ہے۔غرض تو معجزہ سے ہے اور بے جان کا باوجود بے جان ہونے کے پرواز یہ بڑا معجزہ ہے۔ہاں ! اگر قرآن کریم کی کسی قرآت میں اس موقعہ پر فَيَكُونُ حَيًّا کا لفظ موجود ہے یا تاریخی طور پر ثابت ہے کہ درحقیقت وہ زندہ ہو جاتے تھے اور انڈے بھی دیتے تھے اور اب تک اُن کی نسل سے بھی بہت سے پرندے موجود ہیں تو پھر ان کا ثبوت دینا چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر تمام دنیا چاہے کہ ایک لکھی بنا سکے تو نہیں بن سکتی کیونکہ اس سے تشابہ فی خلق اللہ لازم آتا ہے۔اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے آپ ان کو خالق ہونے کا اذان دے رکھا تھا یہ خدا تعالی پر افترا ہے کلام الہی میں تناقص نہیں خدا تعالیٰ کسی کو ایسے اذان نہیں دیا کرتا۔اللہ تعالیٰ نے سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکھی بنانے کا بھی اذن نہ دیا۔پھر مریم کے بیٹے کو یہ اذان کیوں کر حاصل ہوا ؟ خدا تعالیٰ سے ڈرو اور مجاز کو حقیقت پر حمل نہ کرو۔(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۷۴،۳۷۳ حاشیه)