تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 462
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۲ سورة النساء وجہ سے اندھا اور سیاہ کر دیتا ہے اور اسے ایسا دھندلا بناتا ہے کہ پتہ بھی نہیں لگتا لیکن جب تو بہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنی نا پاک اور تاریک زندگی کی چادر اتار دیتا ہے تو قلب منور ہونے لگتا ہے اور پھر اصل مبدا کی طرف رجوع شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ تقویٰ کے انتہائی درجہ پر پہنچ کر سارا میل کچیل اتر کر پھر وہ کلمۃ اللہ ہی رہ جاتا ہے۔یہ ایک بار یک علم اور معرفت کا نکتہ ہے ہر شخص اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۱) ( قرآن شریف اور احادیث میں جو حضرت عیسی کے نیک اور معصوم ہونے کا ذکر ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ دوسرا کوئی نیک یا معصوم نہیں بلکہ قرآن شریف اور حدیث نے ضرور کا یہود کے منہ کو بند کرنے کے لیے یہ فقرے بولے ہیں کہ یہود نعوذ باللہ مریم کو زنا کا ر عورت اور حضرت عیسی کو ولد الزنا کہتے تھے اس لیے قرآن شریف نے ان کا ذب کیا ہے کہ وہ ایسا کہنے سے باز آویں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ اپریل ۱۹۰۲ صفحه ۸) میسیج کو جو روح اللہ کہتے ہیں اور عیسائی اس پر ناز کرتے ہیں کہ یہ مسیح کی خصوصیت ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے ان کو معلوم نہیں کہ قرآن شریف میں مسیح پر روح اللہ کیوں بولا گیا ہے اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے مسیح ابن مریم پر خصوصیت کے ساتھ بہت بڑا احسان کیا ہے جو ان کا تبریہ کیا ہے۔بعض نا پاک فطرت یہودی حضرت مسیح کی ولادت پر بہت ہی ناپاک اور خطرناک الزام لگاتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ بعض ولد اس قسم کے ہوتے ہیں کہ شیطان ان کی پیدائش میں شریک ہو جاتا ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے دامن کو ان اعتراضوں سے پاک کرنے کے لیے اور اس اعتراض سے بچانے کے لیے جو ولد شیطان کا ہوتا ہے قرآن شریف میں روح اللہ کہا۔اس سے خدائی ثابت کرنا حماقت ہے۔کیونکہ دوسری جگہ حضرت آدم کے لیے نَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُومی بھی تو آیا ہے یہ صرف تبر یہ کیا ہے لیکن جو لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں وہ ان سے بحث خاک کریں گے۔(الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۱٫۳۱ کتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۷) حضرت عیسی کو اللہ تعالیٰ نے کلمتہ اللہ خصوصیت سے کیوں کہا اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی ولادت پر لوگ بڑے گندے اعتراض کرتے تھے اس واسطہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ان الزاموں سے بری کرنے کے لیے فرمایا کہ وہ تو کلمۃ اللہ ہیں اُن کی ماں بھی صدیقہ ہے یعنی بڑی پاک باز اور عفیفہ ہے ورنہ یوں تو کلمتہ اللہ ہر شخص ہے اُن کی خصوصیت کیا تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمے اتنے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے۔انہی وہ