تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 461

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۱ سورة النساء أَنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ فَاقُوْهُ عِلْمًا وَأَكْمَلُوا کہ کب آئے گی اور یہ بھی اشارہ کیا کہ ملائک اس سے الْخَوْفَ وَالطَاعَةَ، فَتَفَكَّرُوا فِي هَذَا وَلَا علم اور طاعت میں افضل ہیں سو اس بات کو سوچو اور تَمْشُوا كَقَوْمٍ عَمِيْنَ ثُمَّ إِذَا دَفَقْت النظر اندھوں کی طرح مت چلو پھر اگر تو غور سے دیکھے اور أَوْ أَمْعَنْتَ فِيمَا حَضَرَ ، فَيَظْهَرُ عَلَيْكَ أَنَّ قَوْلَهُ واقعات موجودہ میں غور کرے تو تیرے پر ظاہر ہوگا کہ تَعَالَى رُوحُ مِنْهُ يُشَابِهُ قَوْله تَعَالَى الله جل شانہ کا یہ قول کہ رُوح منہ ایسا ہی قول ہے جیسا جَمِيعًا مِنْهُ فَمِنَ الْعَبَادَةِ أَن تُقبتَ مِن کہ اس کا دوسرا قول۔سو بڑی نادانی کی بات ہے کہ لَفْطِ رُوحٌ مِنْهُ أُلُوهِيَّةَ عِيسَى وَلَا تُفِر مِنْ رُوحٌ مِنْهُ کے لفظ سے حضرت عیسی کی خدائی تو ثابت لفظ جَمِيعًا مِنْهُ بِالْوَهِيَّةِ أَزْوَاجِ الْكِلابِ کرے اور جَمِیعاً مِنْہ کے لفظ سے کتوں اور بلیوں اور وَالْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَأَشْيَاءَ أُخْرى، فَإِنَّ سوروں اور دوسری چیزوں کی خدائی کا اقرار نہ کرے مَنْظُوقَ الْآيَةِ يَشْهَدُ عَلَى أَنَّهَا جَمِيعًا مِنْهُ، کیونکہ منطوق آیت کا دلالت کر رہا ہے ہر یک چیز میں فَمَتْ مِنَ النَّدَامَةِ إِن كُنتَ من داخل ہے یعنی تمام ارواح وغیرہ خدا سے ہی نکلے الْمُسْتَحْيِينَ وَتَفَكَّرُوْا يَا مَعْشَرَ النَّصَاری ہیں پس اب ندامت سے مرجا اگر کچھ شرم ہے اور أَلَيْسَ فِيْكُمْ رَجُلٌ مِنَ الْمُتَفَكِّرِيْنَ اے نصرانی لوگو! اس میں غور کرو کیا تم میں کوئی بھی غور وَلَيْسَ لَكَ أَن تَرْفَعَ في جَوَابِنَا الصَّوْتَ وَإِنْ کرنے والا نہیں ہے اور کبھی ممکن نہیں جو تو ہمارا جواب تلاقى مِن فِكْرِكَ الْمَوْتَ فَإِنَّ مَثَلَ دے سکے اگر چہ اسی فکر میں مرجائے کیونکہ جھوٹا آدمی الْكَاذِبِ كَخُذْرُوفٍ مُتخرَج وَلَا قَرَار لَه ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے اور بچوں کے سامنے اس کو قرار نہیں۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) عِنْدَ الصَّادِقِينَ ( نور الحق حصہ اول ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۳۵ تا ۱۳۷) لوگوں نے کلمتہ اللہ کے لفظ پر جو مسیح کی نسبت آیا ہے سخت غلطی کھائی ہے اور مسیح کی کوئی خصوصیت سمجھی ہے حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ہر انسان جب نفسانی ظلمتوں اور گندگیوں اور تیرگیوں سے نکل آتا ہے اس وقت وہ کلمتہ اللہ ہوتا ہے۔یا د رکھو ہر انسان کلمتہ اللہ ہے کیونکہ اس کے اندر روح ہے جس کا نام قرآن شریف میں امر ربی رکھا گیا ہے لیکن انسان نادانی اور نا واقعی سے روح کی کچھ قدر نہ کرنے کے باعث اُس کو انواع و اقسام کی سلاسل اور زنجیروں میں مقید کر دیتا ہے اور اس کی روشنی اور صفائی کو خطر ناک تاریکیوں اور سیاہ کاریوں کی