تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 463
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۳ سورة النساء اعتراضوں سے ہی بری کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے اُن کو کہا کہ وہ شیطان کے مس سے پاک ہیں ورنہ کیا دوسرے انبیاء شیطان کے ہاتھ سے مس شدہ ہیں جو نعوذ باللہ دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ ان پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ شیطان کو کسی معمولی انسان پر بھی تسلط نہیں ہوتا تو انبیاء پر کس طرح ہو سکتا ہے۔اصل وجہ یہی تھی کہ ان پر بڑے اعتراض کیے گئے تھے اسی واسطے ان کی بریت کا اظہار فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَفَرَ سُکین کوئی کہے کہ کیا انبیاء بھی کافر ہوا کرتے ہیں۔نہیں ایسا نہیں لوگوں نے ان پر اعتراض کیا تھا کہ وہ بت پرست ہو گئے تھے ایک عورت کے لیے۔اُس اعتراض کا جواب دیا یہی حال ہے حضرت عیسی کے متعلق۔الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۲،۱۱) ان کلمہ اس لیے کہا گیا تھا کہ یہود ان کو نا جائز ولادت قرار دیتے تھے ورنہ کیا دوسرے انبیاء کلمتہ اللہ نہ تھے اسی طرح مریم علیہا السلام کو صدیقہ کہا گیا اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اور عور تیں صدیقہ نہ تھیں یہ بھی اسی لیے کہا کہ یہودی ان پر تہمت لگاتے تھے تو قرآن نے اس تہمت کو دور کیا۔البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱) اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح کو روح منه فرمانے سے اصلی مطلب یہ ہے کہ تا ان تمام اعتراضات کا جواب دیا جاوے جو اُن کی ولادت کے متعلق کیے جاتے ہیں۔یا درکھو ولادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ولادت تو وہ ہوتی ہے کہ اُس میں روح الہی کا جلوہ ہوتا ہے اور ایک وہ ہوتی ہے کہ اس میں شیطانی حصہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ وَشَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَولاد یہ شیطان کو خطاب ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے رُوح منه فرما کر یہودیوں کے اس اعتراض کو رد کیا ہے جو وہ نعوذ باللہ حضرت مسیح کی ولادت کو نا جائز ٹھہراتے تھے۔رُوح منہ کہ کر صاف کر دیا کہ ان کی ولادت پاک ہے یہودی تو ایسے بے باک اور دلیر تھے کہ اُن کے منہ پر بھی اُن کی ولادت پر حملہ کرتے تھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ وہ مس شیطان سے پاک ہے اس میں بھی اسی کی تصدیق ہے ورنہ تمام انبیاء اور صلحا مس شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔ان کی صراحت اس واسطے کی ہے کہ ان پر ایسے ایسے اعتراض ہوئے اور کسی نبی پر چونکہ اعتراض نہیں ہوئے۔اس لیے اُن کے لیے صراحت کی ضرورت بھی نہ پڑی دوسرے نبیوں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ ہوتے تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہے کیونکہ اگر ایک مسلم و مقبول نیک آدمی کی نسبت کہا جاوے کہ وہ تو زانی نہیں یہ اُس کی ایک