تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 30
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰ سورة ال عمران ر کے اور خود ہی کر لے۔ اسلام محض اس کا نام نہیں ہے۔ اسلام تو یہ ہے کہ بکرے کی طرح سر رکھ دے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا مرنا ، میرا جینا، میری نماز ، میری قربانیاں اللہ ہی کے لئے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنی گردن رکھتا ہوں ۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۳) خداوند تعالیٰ مسلمانوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ آنحضرت کے نمونے پر چلیں اور آپ کے ہر قول اور فعل کی پیروی کریں چنانچہ فرماتا ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : ۲۲) پھر فرماتا ہے : قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال عیب سے خالی نہ تھے تو کیوں ہم پر واجب کیا کہ ہم آپ کے نمونے پر چلیں؟ جب خدا نے ابراہیم علیہ السلام کے نمونے پر چلنے کی تاکید فرمائی تو ساتھ ایک استثناء لگا دیا مگر آنحضرت کی صورت میں کوئی استثناء نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال غلطی سے پاک تھے۔ کے ریویو آف ریلیجیز جلد ۲ نمبر ۶ بابت جون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۴۵، ۲۴۶) اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۹، مورخه ۲۴ را کتوبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) روحانیت کے نشو نما اور زندگی کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے ۔۔۔۔ قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو: اَشَدُّ حُبًّا لِلهِ ( البقرۃ : ۱۶۶) کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پر عمل کرو اور ایسی فناء اتم تم پر آجاوے کہ تَبَثَّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل: 9) کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ۔ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کرلو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۰ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) جس طرح پر آفتاب سے ساری دنیا فائدہ اُٹھاتی ہے اور اُس کا فائدہ کسی خاص حد تک جا کر بند نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات کا آفتاب ہمیشہ چمکتا ہے اور سعادت مندوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ تو میری اطاعت کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا ۔ آپ کی سچی اطاعت اور اتباع انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور لے دیکھو آیت قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ ۔۔۔۔۔ الا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَاسْتَغْفِرَنَ (الممتحنة : ٥)