تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 31
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱ سورة ال عمران گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہوتی ہے۔پس جبکہ آپ کی اتباع کامل اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے پھر کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ایک محبوب اپنے محب سے کلام نہ کرے۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱) اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور طرزعمل کو اپنار ہبر اور بادی نہ بنالے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا ہے: قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله یعنی محبوب الہی بننے کے لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے۔کچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۷ ۲ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۲ صفحہ ۸) نجات اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہوا کرتی ہے اُس فضل کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے جوا اپنا قانون ٹھہرایا ہوا ہے وہ (اسے) بھی باطل نہیں کرتا وہ قانون یہ ہے کہ : اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ وو فَاتَّبِعُونِي يُحببكم الله اور مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ ( ال عمران : ٨٢) - البدر جلد نمبر ۴، مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۱) خدا کے محبوب بننے کے واسطے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی ایک راہ ہے اور کوئی دوسری راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملا دے۔۔۔۔میں پھر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ صفحہ ۸) ہر ایک شخص کو خود بخود خدا سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطه قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ کو چھوڑتا ہے وہ کبھی بامراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے، غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو۔قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے : قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى انْفُيهم (الزمر: ۵۴) اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔رسول کریم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو۔سب حکموں پر کار بندر ہو جیسے کہ حکم ہے : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله یعنی اگر تم خدا سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرماں بردار بن جاؤ اور رسول کریم کی راہ میں فنا ہو جاؤ تب خدا تم سے محبت کرے گا۔ود (البدر جلد ۲ نمبر ۱۴، مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۹)