تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 420
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۰ سورة النساء الْمَغَارَاتِ كَمَا أَخْفَى أَفضَلَ الرُّسُلِ چھپا لیا تھا۔پس سوچو مسیح کے آسمان کی طرف اُٹھا لینے عِندَ التَّعَاقَبَاتِ فَفَكِّر آئی حَاجَة کے لیے کون سی شدید ضرورت اسے پیش آئی تھی کیا اللہ تعالی اشْتَدَّتْ لِرَفَعِهِ إِلَى السَّمَوتِ آخَشِيَ الله ان ذلیل یہودیوں کے رُعب سے ڈر گیا تھا اور اسے رُعْبَ الْيَهُودِ الْمَخْذُوْلِينَ۔وَظَن انهم خدشہ تھا کہ وہ اسے زمین کے ہر حصہ سے نکال لیں گے يُخْرِجُونَهُ مِنَ الْأَرْضِينَ اَلَا تَعْلَمُ آن کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور ہر فعل بقدر ضرورت الله حَكِيمٌ لَّا يَفْعَلُ فِعْلًا إِلَّا بِقَدْرِ اور حکمت کے تقاضا کے مطابق کرتا ہے اور کسی لغو بات کی ضُرُورَةٍ وَلَا يَتَوَجَّهُ إِلى لَغْوِ بِغَيْرِ حِكْمَةٍ طرف توجہ نہیں کرتا۔پس مسیح علیہ السلام کو آسمان کی طرف دَاعِيَةٍ فَأَى حِكْمَةِ الْجَأَ الله يرفع اٹھانے کے لیے کون سی حکمت نے اللہ تعالیٰ کو مجبور کیا تھا۔الْمَسِيحِ إِلَى السَّمَاءِ أَمَا وَجَدَ مَوْضِعاً في کیا اسے زمین میں چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملی تھی الْأَرْضِ لِلْإِخْفَاءِ فَفَكِّرُ كَالْمُبَطِرِينَ پس آنکھوں والوں کی طرح غور کرو۔( ترجمہ از مرتب ) انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۶۸ تا۱۷۲ حاشیه ) یہودیوں نے ایک پاک نبی کو ملعون کہہ کر خدا کے غضب کی راہ اختیار کی اور عیسائیوں نے اپنے پاک نبی اور مرشد اور ہادی کے دل کو بوجہ لعنت کے مفہوم کے ناپاک اور خدا سے پھرا ہوا قرار دے کر ضلالت کی راہ اختیار کی اس لئے ضروری ہوا کہ قرآن بحیثیت حکم ہونے کے اس امر کا فیصلہ کرے۔پس یہ آیات بطور فیصلہ ہیں کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شَيْءَ لَهُمْ۔۔۔۔۔بَلْ نَفَعَهُ اللهُ اليه - یعنی یہ سرے سے بات غلط ہے کہ یہودیوں نے بذریعہ صلیب حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے اس لئے اس کا نتیجہ بھی غلط ہے کہ حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا اور نعوذ باللہ شیطان کی طرف گیا ہے بلکہ خدا نے اپنی طرف اُس کا رفع کیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں رفع جسمانی کا کوئی جھگڑا نہ تھا اور نہ یہود کا یہ اعتقاد تھا کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ مومن نہیں ہوتا اور ملعون ہوتا ہے اور خدا کی طرف نہیں جاتا بلکہ شیطان کی طرف جاتا ہے۔خود یہود قائل ہیں کہ حضرت موسیٰ کا رفع جسمانی نہیں ہوا حالانکہ وہ حضرت موسیٰ کو تمام اسرائیلی نبیوں سے افضل اور صاحب الشریعت سمجھتے ہیں اب تک یہود زندہ موجود ہیں اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے کیا نتیجہ نکالا تھا ؟ کیا یہ کہ اُن کا رفع جسمانی نہیں ہوا یا یہ کہ اُن کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ نعوذ باللہ او پر کو خدا کی طرف نہیں گئے بلکہ نیچے کو شیطان کی طرف گئے۔بڑی حماقت