تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 421

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۱ سورة النساء انسان کی یہ ہے کہ وہ ایسی بحث شروع کر دے جس کو اصل تنازع سے کچھ بھی تعلق نہیں۔بمبئی کلکتہ میں صد با یہودی رہتے ہیں بعض اہل علم اور اپنے مذہب کے فاضل ہیں اُن سے بذریعہ خط دریافت کر کے پوچھ لو کہ انہوں نے حضرت مسیح پر کیا الزام لگایا تھا اور صلیبی موت کا کیا نتیجہ نکالا تھا کیا عدم رفع جسمانی یا عدم رفع روحانی کیا۔غرض حضرت مسیح کے رفع کا مسئلہ بھی قرآن شریف میں بے فائدہ اور بغیر کسی محرک کے بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس میں یہود کے ان خیالات کا ذب اور دفع مقصود ہے جن میں وہ حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں۔بھلا اگر تنزل کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ یہ لغو حرکت نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے اپنے لئے پسند کی کہ مسیح کو مع جسم اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنے نفس پر جسم اور جسمانی ہونے کا اعتراض بھی وارد کر لیا کیونکہ جسم جسم کی طرف کھینچا جاتا ہے پھر بھی طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ قرآن شریف یہود اور نصاری کی غلطیوں کی اصلاح کرنے آیا ہے اور یہود نے یہ ایک بڑی غلطی اختیار کی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نعوذ باللہ ملعون قرار دیا اور اُن کے رُوحانی رفع سے انکار کیا۔اور یہ ظاہر کیا کہ وہ مرکر خدا کی طرف نہیں گیا ہے بلکہ شیطان کی طرف گیا تو اس الزام کا دفع اور ذَب قرآن میں کہاں ہے جو اصل منصب قرآن کا تھا کیونکہ جس حالت میں آیت رَافِعُكَ اِلَى (ال عمران : ۵۶ ) اور آیت بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ جسمانی رفع کیلئے خاص ہو گئیں تو روحانی رفع کا بیان کسی اور آیت میں ہونا چاہیے اور یہود اور نصاری کی غلطی دُور کرنے کے لئے کہ جو عقید و لعنت سے متعلق ہے ایسی آیت کی ضرورت ہے کیونکہ جسمانی رفع لعنت کے مقابل پر نہیں بلکہ جیسا کہ لعنت بھی ایک روحانی امر ہے ایسا ہی رفع بھی ایک امر رُوحانی ہونا چاہئے۔پس وہی مقصود بالذات امر تھا اور یہ عجیب بات ہے کہ جو امر تصفیہ کے متعلق تھا وہ اعتراض تو بدستور گلے پڑا رہا اور خدا نے خواہ نخواہ ایک غیر متعلق بات جو یہود کے عقیدہ اور باطل استنباط سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتی یعنی رفع جسمانی اس کا قصہ بار بار قرآن شریف میں لکھ مارا۔گویا سوال دیگر اور جواب دیگر۔ظاہر ہے کہ رفع جسمانی یہود اور نصاری اور اہل اسلام تینوں فرقوں کے عقائد کے رو سے مدار نجات نہیں۔بلکہ کچھ بھی نجات اس پر موقوف نہیں تو پھر کیوں خدا نے اس کو بار بار ذکر کر نا شروع کر دیا۔یہود کا یہ کب مذہب ہے کہ بغیر جسمانی رفع کے نجات نہیں ہو سکتی اور نہ سچا نبی ٹھہر سکتا ہے پھر اس لغو ذ کر سے فائدہ کیا ہوا؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جو تصفیہ کے لائق امر تھا جس کے عدم تصفیہ سے ایک سچا نبی جھوٹا ٹھہرتا ہے بلکہ نعوذ باللہ کا فر بنتا ہے اور لعنتی کہلاتا ہے اس کا تو قرآن نے کچھ ذکر نہ کیا اور ایک بے ہودہ قصہ رفع جسمانی کا جس سے کچھ بھی فائدہ نہیں شروع کر دیا۔غرض حضرت مسیح کی موت اور رفع جسمانی پر یہ دلائل ہیں جو ہم نے بہت