تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 419

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۹ سورة النساء النَّصَارَى إِنَّهُ كَانَ ابْنُ اللهِ فَضلِب اور بیشک شروع میں اس کا رفع نہیں ہوا بلکہ اس پر لعنت ڈالی لإنْجَاءِ الخَلْقِ وَ مُبعَ مِنَ الرفع في أَوَّلِ گئی اور اسے عذاب دیا گیا اور بد کا رلوگوں کی طرح تین دن الرَّفْعِ الْأَمْرِ وَلُعِنَ وَعُذْبٌ وَادْخِلَ فِي جَهَنَّمَ تک جہنم میں رکھا گیا لیکن اس کے بعد اسے عرش کی طرف إلى تلقَةِ أَيَّامٍ كَالْفَاسِقِينَ ثُمَّ رُفِعَ إِلَى اُٹھایا گیا اور اللہ نے اسے ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے دائیں الْعَرْشِ وَأَوَاهُ الله إلى يمينه إلى ابد ہاتھ بٹھالیا گویا یہود تفریط ظلم اور تنقیص کی طرف چلے گئے اور الْأَبِدِينَ۔فَالْيَهُودُ ذَهَبُوا إِلى تَفْرِيطٍ و نصاری نے تفریط کے ساتھ افراط کو اختیار کر لیا تب اللہ تعالیٰ هَمْطٍ وَاهْبَاطٍ وَالنَّصَاری مَعَ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ میں جو درست اور حقیقت التَّفْرِيطِ إِلى إِفْرَاطٍ فَبَلَنَ اللهُ مَا كَانَ پر مبنی بات تھی اسے بیان کر دیا اور فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ أَحَقِّ وَأَقْوَمَ فِي أَمْرِ عِيسَى، فَقَالَ إِنَّهُ السلام کو صلیب پر نہیں مارا گیا بلکہ انہوں نے طبعی موت سے مَا صُلِبَ بَلْ تُوُفِّيَ بِحَتَفِ اَنْفِهِ وَالْحِقَ وفات پائی اور وفات یافتوں سے جاملے۔پھر بغیر لعنتی ہونے بِالْمَوْلَى ثُمَّ رُفِعَ كَالْمُقَرَّبِينَ مِنْ غَيْرِ کے اور جہنم میں ڈالے جانے کے مقربین کی طرح اللہ تعالیٰ کی أَنْ يُلْعَنَ وَيُدْخَلَ فِي اللَّظى فَالْحَاصِلُ طرف ان کا رفع ہوا۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہود اور أنَّ هَذَا قَضَاء مِن الله الأغلى بين نصاری کے درمیان یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے تا وہ اپنے بندہ کو الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ليرة عبدة من ملعون ہونے اور عدم رفع کے بہتان سے بری کرے اور صحیح عَبْدَهُ بُهْتَانِ اللَّعْنِ وَ عَدُهِ الرَّفْعِ وَيَفْعِی اور درست فیصلہ فرمائے۔پس اس نے ان کے درمیان جو يمَا هُوَ أَحَقُّ وَ أَوْلى فَحَكَمَ بَيْنَهُمْ فَمَا اختلاف تھا اس کا فیصلہ کر دیا اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں الختَلَفُوا فِيْهِ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ میں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔وَلَوْ لَا هَذَا الْغَرَضُ فَمَا كَانَ وَجْهُ اگر یہ غرض نہ تھی تو پھر اس قصہ کے بیان کرنے کی کوئی لذكر هذهِ الفِضَّةِ، بَلْ لَّوْ فُرِضَت وجہ نہ تھی بلکہ اگر اس قصہ کو اس طرز پر نہ سمجھا جائے تو یہ پورا الْقِصَّةُ عَلى خِلَافِ هذهِ الصُّورَةِ لَكَانَ قصہ لغو ظہرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فعل محل اعتراض بن جاتا لغُوا كُلُّهَا وَ تَحَلَّ اعتراض علی فعل ہے۔کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہیں تھی کہ وہ مسیح علیہ السلام حَضْرَةِ الْعِزَّةِ الَّمْ تَكُن آرضُ الله کو غاروں میں سے کسی غار میں چھپا لیتا جیسا کہ اس نے وَاسِعَةً فَيُخْفِي الْمَسِيحَ فِي مَغَارَةٍ مِّنَ دشمنوں کے تعاقب کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو