تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 417
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۷ سورة النساء عِزَّةَ أَصْفِيَاتِهِ بِحِكْمَتِهِ التَّقِيقَةِ اصفیاء کی عزت کو ضر ر نہیں پہنچا سکتا جیسا کہ یہودیوں کے الْبَالِغَةِ اللَّطِيفَةِ، لَا يَضُرُّهَا مَكْرُ مکر نے حضرت عیسی علیہ السلام کی عزت کو کوئی نقصان نہ مَاكِرٍ كَمَا مَا أَضَرَّ عِزَّةَ عِيسَى مَكْرُ پہنچایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت کو بڑھایا اور بلند الْيَهُودِ بَلْ أَعَزَّ وَرَفَعَهُ وَدَمر درجہ عطا فرمایا اور ہلاکت کی تدابیر کرنے والوں کو تباہ الْمَاكِرِينَ برباد کر دیا۔فَاعْلَمْ أَيُّهَا الْعَزِيزُ هَذَا تَفْسِيرُ پس اے عزیز تم سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کے قول بَل رَّفَعَهُ قَوْلِهِ تَعَالَى بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ، وَلكِن لَّا اللهُ إِلَيْهِ کی تفسیر یہی ہے مگر ہمارے لوگ اسے قبول نہیں يَقْبَلُه قَوْمُنَا وَيُحَرِّفُونَ كَلَامُ الله وَلا کرتے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرتے ہیں وہ اس يَتَدَبَّرُوْنَ فِي شَأْنٍ نُزُولِهِ، وَيَمْشُونَ عَلَی آیت کے شانِ نزول میں غور نہیں کرتے اور زمین میں اکٹر الْأَرْضِ مُسْتَكْبِرِينَ۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ إِنَّ کر چلتے ہیں اور جب انہیں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور الله وَرَسُولَهُ قَد شَهِدَا عَلَى وَفَاةِ الْمَسِيحَ اس کے رسول نے وفات مسیح پر شہادت دی ہے اور اسی وَكَذلِكَ شَهِدُوا عَلَيْهِ أَكَابِرُ الْمُؤْمِنِينَ طرح مومنوں میں سے جلیل القدر صحابہ تابعین اور ائمہ مِن الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِيْن وَأَئمة حدیث نے بھی اس پر شہادت دی ہے تو ان کا آخری الْمُحَدِّثِينَ، فَكَانَ أَخِرُ جَوَاهِمْ أَنَّ الله جواب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ مسیح قَادِرُ عَلى أَن يُحْيِيَة بَعْدَ وَفَاتِهِ مَرَّةٌ کو موت کے بعد ایک مرتبہ پھر زندہ کر دے اور یہ نہیں أُخْرَى، وَلَا يَتَفَكَّرُوْنَ أَن تُندَةَ الله سوچتے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ان باتوں سے کوئی تعلق تعالى لا يَتَعَلَّقُ مَا يُخَالِف مَوَاعِیدَہ نہیں جو اس کے سچے وعدوں کے مخالف ہوں اور خود اس الصَّادِقَةَ، وَقَدْ قَالَ فَيُمُسِكُ التِي قضى نے فرمایا ہے فیس الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ - اى عَلَيْهَا الْمَوْتَ ، وَقَالَ وَمَا هُمْ مِنْهَا طرح فرمایا وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ نیز فرمایا لا بِمُخْرَجِينَ ، وَقَالَ لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولى اس بات میں إلا المَوْتَةَ الأولى ، وَلا شَكٍّ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ کوئی شک نہیں کہ جو بھی نیک لوگوں میں سے وفات پا جاتا مِن الضُّلَحَاءِ فَإِنَّهُ نَالَ حَظًّا مِنَ الْجَنَّةِ ہے وہ جنت میں سے حصہ پالیتا ہے اور اس پر دوسری موت الزمر :٤٣ الحجر : ۴۹ الدخان:۵۷