تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 416

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۶ سورة النساء كِتَابَ اللهِ، فَصَلَبُوهُ بِزَعْمِهِمْ ، وَفَرِحُوا باقی نہ رہے سو انہوں نے اپنے زعم کے مطابق اس کو صلیب بِأَنَّهُمْ أَثْبَتُوا مَلْعُونِيَّتَهُ وَعَدُمِ رَفْعِه پر مار دیا اور اس بات پر خوش ہو گئے کہ انہوں نے تو رات بِالتَّوْرَاةِ، وَلَكِنَّ اللهَ نَجَاهُ مِنْ حِيَلِهِمْ کے مطابق مسیح کی ملعونیت اور عدم رفع کو ثابت کر دیا ہے وَقَتْلِهِمْ، فَأَخْبَرَ عَنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ في لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے حیلوں اور قتل کی کوششوں كِتَابِهِ الَّذِي أَنْزَلَ بَعْدَ الْإِنجِيلِ حَكَما سے نجات دی پھر اس قصہ کو اپنی کتاب میں بیان فرما دیا عدلًا وَمُبَيِّنًا لِظُلْمِ كُلِّ قَوْمٍ جس کو انجیل کے بعد بطور حکم وعدل نازل کیا تھا اور جو ہر قوم وإِيْدَ آتِهِمْ وَكَيْدِهِمْ وَمُكَذِبا کے ظلم اور ان کی ایذا رسانی اور ان کی تدبیروں کو واضح کرنے لِلْكَافِرِينَ فَكَانَ يَقُولُ يَا حِزْبَ والی اور کافروں کو جھوٹا ٹھہرانے والی ہے گو یا اللہ تعالیٰ فرماتا الْمَاكِرِينَ : يَا أَعداء الصدق ہے اے مکر کرنے والوں کے گروہ اور اے سچائی اور صادقوں وَالصَّادِقِينَ لِمَ تَقُولُونَ إِنَّا قَتَلْنَا کے دشمنوں تم کیوں یہ کہتے ہو کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل الْمَسِيحَ ابْن مَرْيَمَ وَصَلَبَنَا وَأَنبَتْنَا کر دیا اور صلیب پر مار دیا اور ثابت کر دیا کہ آپ ملعون ہیں أَنَّهُ مَلْعُوْنَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ فَأُخْبِرُكُمْ مرفوع نہیں۔پس اے خبیث قوم میں تم کو بتا تا ہوں کہ نہ تم أَيُّهَا الْقَوْمُ الْخَبِيدُونَ أَنَّكُمْ مَا نے اس کو قتل کیا ہے نہ ہی صلیب پر مارا ہے بلکہ در حقیقت قَتَلْتُمُوهُ وَمَا صَلَبْتُمُوهُ وَلكِن شُبه صحیح مقتول اور مصلوب کے مشابہ بنایا گیا اور تم خود بھی اپنے لَكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ في أَنفُسِكُمْ دلوں میں خوب سمجھتے ہو کہ تم نے مسیح کو ہر گز قتل نہیں کیا بلکہ أَنَّكُمْ مَا قَتَلْتُمُوهُ يَقِينًا، بَلْ نَجَاهُ الله اللہ تعالی نے اسے تمہارے مکر سے بچا لیا اور اسے وہ روحانی مِن مَّكْرِكُمْ وَرَزَقَهُ الرَّفْعَ الرُّوحَانِ رفع عطا کیا جو تم اس کے لیے نہیں چاہتے تھے اور تم حیلے کر الَّذِي كُنتُمْ لَا تُرِيدُونَ لَهُ وَتَمْكُرُونَ رہے تھے کہ اسے یہ مقام حاصل نہ ہو مگر اسے یہ مقام لِئَلَّا يَحْصِلَ لَهُ ذُلِكَ الْمَقَامُ، فَقَد حاصل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا رفع فرمایا اور اللہ تعالیٰ حَصَلَ لَهُ وَرَفَعَهُ اللهُ وَكَانَ اللهُ غالب اور حکمت والا ہے اور یہ قول یعنی عَزِيزًا حَكِيمًا اس عَزِيزًا حَكِيمًا۔وَهُذَا الْقَوْلُ يَعْنِی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت دیتا قَوْله تَعَالَى عَزِيزًا حَكِيمًا إِشَارَةً إلى ہے اور اپنے برگزیدہ لوگوں کی عزت کی دقیق کامل اور لطیف أَنَّ اللهَ يُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَـحْـفـظ حکمت کے ساتھ حفاظت کرتا ہے۔کسی مکر کرنے والے کا مکر