تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 418

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۸ سورة النساء وَحُرِّمَ عَلَيْهِ الْمَوْتَةُ الثَّانِيَةُ فَكَيْفَ واقع نہیں ہوتی۔پس یہ کس طرح جائز ٹھہرتا ہے کہ عیسیٰ علیہ يَجُوزُ أَنْ يُرَةً عِيسَى إِلَى الدُّنْيَا وَيُخرج السلام کو دنیا کی طرف لوٹایا جائے اور وہ جنت اور اس کی مِن حَةِ الْجَنَّةِ وَنَعِيْهِهَا أَوْ يُسَنَّ عَلَيْهِ نعمتوں سے باہر نکالا جائے اور اس پر اس کے بالا خانوں کے غُرْفَتُهَا ثُمَّ يُتَوَى مَرَّةٌ ثانِيَةُ؟ مَعَ أَن دروازے بند کر دیے جائیں پھر وہ دوسری مرتبہ وفات الْآيَةَ الْمُتَقَيِّمَةَ أَغْنِى لَا يَذُوقُونَ فِيهَا پائیں باوجود یکہ آیت مذکورہ بالا لا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ الموت إلا الموتة الأولى تَدُلُّ عَلى دَوَامِ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولىی آپ کے مرنے کے بعد دائی زندگی الْحَيَاةِ وَعَدُمٍ ذَوقِ الْمَوْتِ۔پانے اور دوبارہ موت کو نہ چیکھنے پر دلالت کرتی ہے۔(حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۵۶ تا ۲۵۸ حاشیه) (ترجمه از مرتب) الرَّفْعُ الَّذِي جَاءَ فِي ذِكْرِ عِيسَى قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کے ذکر کے عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْقُرْآنِ۔فَهُوَ لَيْسَ دوران جس رفع کا ذکر کیا گیا ہے وہ رفع جسمانی نہیں اسی لیے رَفَعُ جِسْمَانِي وَلِذَالِكَ قُدِمَ عَلَيْهِ لَفظ اس سے پہلے لفظ تو فی بیان کیا گیا ہے۔تا کہ لوگ جان لیں التَّوَفَّى فى الْبَيَانِ لِيَعْلَمَ النَّاسُ انَّه کہ وہ رفع روحانی ہے جیسا کہ اللہ کی سنت ہمیشہ سے جاری رَفْعُ تُوحَانِي كَمَا جَرَتْ عَلَيْهِ سُنَّةُ الله ہے کہ اہل ایمان کا موت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا بَعْدَ مَوْتِ أَهْلِ الْإِيمَانِ فَإِنَّهُمْ ہے اور خوش خوش اس کی جنتوں میں داخل کیے جاتے ہیں اور يُرْفَعُونَ إِلَى اللهِ بَعْدَ قَبْض الروح و یہ آیت یہودیوں اور عیسائیوں کے مابین جھگڑے کا فیصلہ يُدْخَلُونَ فِي نَعِيمِ الْجِنَانَ فَرِحِينَ کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے کیونکہ یہودی یہ دعوی کرتے وَالْآيَاتُ نَزَلَتْ لِيَقْضِيَ بَيْنَ الْيَهُودِ تھے کہ حضرت مسیح کا ذبوں میں سے تھا اور ملعون تھا اور وہ ان وَالْمَسِيحِيين۔فَإِنَّ الْيَهُودَ زَعَمُوا آن مقربین میں شامل نہیں تھا جن کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا الْمَسِيحَ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ وَ مَلْعُونَا وَ ہے وہ کہتے ہیں کہ مسیح مصلوب ہوا اور جو مصلوب ہو وہ مَا كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ الْمَرْفُوعِینَ وَ تورات کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف مرفوع نہیں قَالُوا إِنَّه صُلب وَالْمَعْلُوبُ لَا يُرْفَعُ إِلَى ہوتا بلکہ بارگاہ الہی سے دھتکارا جاتا ہے اور مرد و دلوگوں میں اللهِ بِحُكْمِ التَّوْرَاةِ بَلْ يُلْعَنُ مِن شمار ہوتا ہے۔اس کے برخلاف نصاری یہ کہتے ہیں کہ مسیح خدا حَضْرَتِهِ وَيُجْعَلُ مِنَ الْمَرْدُودِينَ۔وَقَالَ کا بیٹا ہے اور مخلوق کو نجات دلانے کی خاطر صلیب پر مارا گیا