تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 413
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۳ سورة النساء قِصَّةَ عَدُمٍ صَلْبِ عِيسَى، وَبَرَأَة مما سے اللہ تعالیٰ نے ( قرآن مجید میں ) حضرت عیسی علیہ السلام قَالُوا، وَإِلَّا فَأَى ضُرُورَةٍ كَانَتْ دَاعِيَةٌ کے صلیب پر وفات نہ پانے کے قصہ کو بیان کیا ہے اور إِلى ذِكْرِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَمَا كَانَ مَوْتُ انہیں لوگوں کے الزام سے بری قرار دیا ہے وگرنہ اس قصہ الْقَتْلِ نَفْسًا لِأَنْبِيَائِهِ وَكسترا کے بیان کی کون کی ضرورت مقتضی تھی قتل کے ذریعہ انبیاء کا لِشَأْنِهِمْ وَعِزَّتِهِمْ، وَكَأَيْنَ مِنَ النَّبِيِّينَ وفات پانا ان کی تنقیص اور کسر شان اور ان کی عزت کے منافی قُتِلُوا في سَبِيلِ اللهِ كَيَحْنِی عَلَيْهِ نہیں ہوتا اور کئی ایک نبی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قتل کیے السَّلامُ وَأَبِيهِ، فَتَفَكَّرُ واطلب صِرَاط گئے جیسے بیمی علیہ السلام اور ان کے باپ زکریا علیہ السلام۔الْمُهْتَدِينَ وَلَا تَجْلِسُ مَعَ الْغَاوِيْنَ پس غور کرو اور ہدایت یافتہ لوگوں کا طریق تلاش کرو اور (حمامۃ البشری، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۵۵ حاشیہ) گمراہ ہونے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔( ترجمہ از مرتب) وَقَالُوا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ بَلْ زَفَعَهُ ہمارے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ اللہ عز وجل نے قرآن مجید میں اللهُ، وَيَحْتَجُونَ بِهذِهِ الْآيَةِ عَلَى رَفْعِ جِسْمِ فرمایا ہے بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔وہ اس آیت سے مسیح علیہ السلام المسيح، وَلَا يَتَدَبَّرُونَ أَنَّ الْأَمْرَ لَوْ کے جسم کے اُٹھائے جانے پر استدلال کرتے ہیں اور اس بات كَانَ كَذَالِكَ لتَعَارَضَ الايتان پر غور نہیں کرتے کہ اگر معاملہ ایسا ہی ہوتا تو قرآن مجید کی دو أَعْنِي ايَةً بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَآيَةً فِيْهَا آیتیں باہم ٹکرا جاتیں۔میری مراد ایک تو آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ لے تَحيَوْنَ - وَأَنتَ تَعْلَمُ أَنَّ الْقُرْآنَ مُنَزَّةٌ إِلَيْهِ سے ہے اور دوسری آیت فِيهَا تَحیون سے۔حالانکہ تم عَنِ التَّعَارُضِ وَالثَّخَالُفِ، وَقَالَ اللهُ جانتے ہو کہ قرآن کریم تعارض اور تخالف سے پاک ہے اور تَعَالَى وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا اللہ تعالی نے فرمایا ہے لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَأَشَارَ فِي هَذِهِ فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا الْآيَةِ أَنَّ الْإِخْتِلافَ لَا يُوجَدُ فِي الْقُرْآنِ، ہے کہ قرآن کریم میں اختلاف نہیں پایا جاتا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ وَهُوَ كِتَابُ اللهِ وَشَأْنُه أَرْفَعُ مِنْ هَذَا کی کتاب ہے اور اس کی شان اس قسم کے اختلاف سے وَإِذَا نَبَتَ أَنَّ كِتَابَ اللهِ مُنَزِّةٌ عَن بہت بلند ہے اور جب یہ ثابت ہے کہ اللہ کی کتاب اختلافات الإخْتِلاقات فَوَجَبْ عَلَيْنَا أَلَّا نَختار سے پاک ہے تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی تفسیر تنخ الاعراف: ۲۴ النساء : ۸۳