تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 412
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۲ سورة النساء تَكَلَّمَ بِالْفُضُولِ، وَكَانَ مِنَ الْمُتَنَدِمِينَ اور ایسی فضول باتیں منہ پر نہ لاتا جن کے نتیجہ میں وہ نادم فَاسْمَعُ أَيُّهَا الْعَزِيزُ اَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا اور شرمندہ ہوتا پس اے عزیز سنو! یہودی لوگ تو رات میں يَفْرَأُونَ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ الْكَاذِبَ في دَعْوَی یہ پڑھا کرتے تھے کہ جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والا قتل کیا النُّبُوَّةِ يُقْتَلُ، وَاَنَّ الَّذِى صُلِب فَهُوَ جائے گا اور یہ کہ جس کو صلیب پر مارا جائے وہ ملعون ہوتا مَلْعُونٌ لَّا يُرْفَعُ إِلى اللهِ وَكَانَتْ ہے اس کا اللہ کی طرف رفع نہیں ہوتا یہ ان کا پختہ اعتقاد تھا عَقِيْدَهُهُمْ مُسْتَحْكِمَةً عَلى ذلِكَ، ثُمَّ پھر اللہ تعالی کی طرف سے بطور ابتلا انہیں اس شبہ میں شُيَّدَ لَهُمُ ابْتِلاءٌ مِنْ عِندِ الله انهم ڈال دیا گیا کہ گویا انہوں نے حضرت مسیح ابن مریم کو صلیب صَلَّبُوا الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَقَتَلُوهُ پر مار دیا ہے اور قتل کر دیا ہے۔پس انہوں نے حضرت مسیح فَحَسِبُوهُ مَلْعُوْنًا غَيْرَ مَرْفُوع، وَرَبُوا کو مرفوع نہیں بلکہ ملعون خیال کر لیا اور قضیہ کو اس شکل الشَّكل هَكَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ میں مرتب کیا کہ مسیح ابن مریم صلیب پر مارا گیا اور ہر مَصْلُوبٌ، وَكُلُّ مَصْلُوبِ مَّلْعُونَ وَلَيْسَ مصلوب ملعون ہوتا ہے مرفوع الی اللہ نہیں ہوتا۔پس ان مرْفُوعَ، فَتَبَتَ عِندَهُمْ مِنَ الشَّكلِ کے نزدیک اس شکل اول سے جو بین الانتاج ہوتی ہے یہ الأَوَّلِ الَّذِي هُوَ بَيْن الإنتاج أَنَّ عِیسی ثابت ہو گیا کہ عیسی نعوذ باللہ ملعون ہیں اور ان کا رفع خدا (تَعُوذُ بِالله مَلْعُوْنَ وَلَيْسَ يمرفوع کی طرف نہیں ہوا۔پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ یہود کے فَأَرَادَ اللهُ أَن تُزِيْلَ هَذَا الْوَهُم وَيُر: اس وہم کو دور کرے اور عیسی علیہ السلام کو اس بہتان سے بری عِيسَى مِنْ هَذَا الْبُهْتَانِ فَقَالَ مَا قَتَلُوهُ ٹھہرائے سو اس لیے فرمایا کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ بَلْ لَكِنْ شُبِّهَ لَهُمُ۔۔۔۔۔بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ - خدا تعالیٰ کے رَّفَعَهُ اللهُ، وَحَاصِلُ كَلَامِ تَعَالى أَن شَأْن اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عيسى مُنَزَّةٌ عَنِ الصَّلْبِ وَالنَّتيجة التى شان صلیب پر مارے جانے اور اس کے نتیجہ یعنی ملعونیت هى الْمَلعُونِيَّةُ وَعَلمُ الرَّفْعِ، بَلْ هُوَ مَاتَ اور عدم رفع سے پاک ہے بلکہ انہوں ( یعنی حضرت عیسی ) حَتْفَ أَنْفِهِ، وَرُفِعَ إِلَى اللهِ كَمَا يُرْفَعُ نے اپنی طبعی موت سے وفات پائی تھی اور مقرب الی اللہ الْمُقَرَّبُونَ وَمَا كَانَ مِنَ الْمَلْعُونِينَ۔وَهُدًا لوگوں کی طرح ان کا بھی خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوا تھا هُوَ السَّبَبُ الَّذِي ذَكَرَ الله تعالى لأَجْلِه اور آپ ہرگز ملعون لوگوں میں سے نہیں تھے اور اس سبب