تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 414

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة النساء فِي تَفْسِيرِه طَرِيقًا يُوجِبُ التَّعَارُضَ کرتے وقت کوئی ایسا طریق اختیار نہ کریں جو کسی تناقض یا وَالتَّناقُضَ وَمَا كَانَ لِلْيَهُودِ غَرْضٌ تعارض کا موجب ہو۔اور (یہ بات مدنظر رہے کہ ) یہود کو وَبَحْتُ فِي رَفْعِ جِسْمِهِ أَوْ عَدَمِ رفعِهِ فَلَا حضرت مسیح کے جسم کے اٹھائے جانے یا نہ اُٹھائے جانے بُدَّ مِنْ أَنْ تُفَشِرَ الرَّفْعَ فِي آيَةٍ بَل رَّفَعَهُ سے کوئی غرض اور بحث نہیں تھی پس ضروری ہے کہ ہم آیت اللهُ بِالرَّفْعِ الرُّوحَانِي كَمَا هُوَ مَنْهُوهُ آيَةٍ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ الیہ میں رفع سے مرا در فع روحانی لیں جیسا ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ فَإِنَّ که آیت ارجعى إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ کا مفہوم ہے الرُّجُوعَ إِلَى اللهِ تَعَالَى رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف کی حالت رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ کی وَالرَّفْعَ إِلَيْهِ أَمْرٌ وَاحِدٌ لا فَرْقَ بَيْنَهُما حالت میں رجوع اور اس کی طرف رفع دونوں ایک ہی ہیں مَعْنى ثُمَّ انْظُرُ وَتَدَبَّرُ وَهَبَكَ اللهُ مِن اور ان دونوں میں معنا کوئی فرق نہیں پھر نظر ڈالو اور غور وفکر عِنْدِهِ قُوَّةَ الْفَيْصَلَةِ أَنَّ النَّزَاعَ كَانَ في کرو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے پاس سے قوت فیصلہ عطا کرے الرَّفْعِ الرُّوْحَانِي لا في الرفع الجسماني که جھگڑا تو رفع روحانی میں ہے نہ کہ رفع جسمانی میں کیونکہ کہ فَإِنَّ الْيَهُودَ كَانُوا مُنْكِرِينَ مِن رَفع بهبودی حضرت عیسی علیہ السلام کے اس رفع الی اللہ کے منکر رفع اللہ عِيسَى إِلَى اللهِ كَمَا يُرْفَعُ الْمُطَهَّرُونَ تھے جو خدا تعالیٰ کے پاک اور مقربین انبیاء کو نصیب ہوتا الْمُقَرَّبُونَ مِنَ النَّبِيِّينَ وَكَانُوا يُصِرُّونَ (لَعَنَهُمُ اللهُ عَلَى أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السّلامُ مِنَ الْمَلْعُونِينَ لَا مِنَ الْمَرْفُوعِيْنَ، كَمَا أَتَهُمْ يَقُولُونَ إلى هَذِهِ ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ عیسی علیہ السلام ملعونوں میں سے ہیں نہ کہ ان لوگوں میں سے جن کا رفع اللہ کی طرف ہوتا ہے (لَعَنَهُمُ اللهُ ) جیسا کہ وہ آج الْأَيَّامِ وَكَانُوا يَسْتَدِلُونَ غَضِبَ الله کے دن تک کہ رہے ہیں اور وہ (غَضِبَ اللهُ عَلَيْهِمْ ) عَلَيْهِمْ عَلَى مَلْعُوْنِيَّتِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مسیح علیہ السلام کی ملعونیت پر آپ کے صلیب دیئے جانے مِن مَّصْلُوبِيَّتِهِ فَإِنَّ الْمَصْلُوبَ مَلْعُون سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ ان کے مذہب میں مصلوب غَيْرُ مَرْفُوعٍ فِي دِينِهِمْ كَمَا جَاءَ في ملعون ہوتا ہے مرفوع نہیں ہوتا۔جیسا کہ تو رات کی کتاب التَّوْرَاةِ فِي كِتَابِ الْاسْتِثْنَاءِ فَأَرَادَ الله استثناء میں بیان ہوا ہے۔پس اللہ تعالی نے ارادہ کیا کہ تَعَالَى أَنْ يُبَرِ نَبِيَّه عسى الله من هذا وہ اپنے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کو اس بہتان الفجر : ٢٩