تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 389

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة النساء کے معنے عدم رفع ہے۔بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے یہود کا اعتراض دور کرنا تھا اور یہود اب تک عدم رفع سے مرا د روحانی معنے لیتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ روحانی طور عیسی کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا۔اور وہ کا ذب تھا تو پھر خدا تعالیٰ اصل بات کو چھوڑ کر اور طرف کیوں چلا گیا گویا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے یہود کا اصل جھگڑا سمجھا ہی نہیں اور ایسے حج کی طرح فیصلہ کیا جو سراسر روئداد مثل کے برخلاف فیصلہ لکھ مارتا ہے ایسا گمان اگر عمداً خدا تعالیٰ کی نسبت کیا جائے تو پھر کفر میں کیا شک ہے۔پھر ماسوا اس کے ہم کہتے ہیں کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے یہود کے اصل جھگڑے کی اس جگہ پرواہ نہ رکھ کر ایک نئی بات بیان کر دی ہے جس کا بیان کرنا محض ایک فضول ایک غیر ضروری امر تھا یعنی یہ کہ حضرت عیسی کو مع جسم عصری دوسرے آسمان پر بٹھایا گیا تو پھر اس خیال کا بطلان اس طرح پر ہوتا ہے کہ اول تو قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عیسی کو مع جسم عصری دوسرے آسمان پر بٹھا یا گیا بلکہ قرآن شریف کے لفظ تو یہ ہیں کہ بَلْ زَفَعَهُ اللهُ اللهِ یعنی خدا نے عیسی کو اپنی طرف اٹھا لیا۔پس سوچو کہ کیا خدا دوسرے آسمان پر مجسم چیزوں کی طرح بیٹھا ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہمیشہ روحانی ہی ہوتا ہے اور ایسا ہی تمام نبیوں کی تعلیم ہے خدا جسم نہیں ہے کہ تا جسمانی رفع اس کی طرف ہو تمام قرآن شریف میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی کی نسبت فرمایا جاتا ہے کہ خدا کی طرف وہ گیا یا خدا کی طرف اس کا رفع ہوا تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ روحانی طور پر اس کا رفع ہوا جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعي إلى ربك ( الفجر :۲۹) کہ اے نفس مطمعنہ رَبِّكِ اپنے رب کی طرف واپس آجا پس کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ مع جسم عنصری آجا۔ماسوا اس کے اس جگہ یہ سوال ہوگا کہ اگر اس جگہ رفع روحانی کا بیان نہیں ہے اور اس جگہ وہ جھگڑا فیصلہ نہیں کیا گیا جو یہود نے حضرت مسیح کے رفع روحانی کی نسبت انکار کیا تھا اور نعوذ باللہ ملعون قرار دیا تھا تو پھر قرآن شریف کے کس مقام میں یہود کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جس کا جواب دینا بموجب وعدہ الہی کے ضروری تھا۔پس اس تمام بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کے رفع کو جسمانی ٹھہرانا سراسر ہٹ دھرمی اور حماقت ہے۔بلکہ یہ وہی رفع ہے جو ہر ایک مومن کے لیے وعدہ الہی کے موافق موت کے بعد ہونا ضروری ہے۔اور کافر کے لیے حکم ہے: لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : ۳۱) یعنی ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔یعنی ان کا رفع نہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے : مُفَتَّحَةٌ لَّهُمُ