تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 388
۳۸۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء جیسے کہ اور مومنوں کا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کو اس فضول بحث اور فیصلہ کی ضرورت نہ تھی کہ حضرت عیسی بجسم عصری آسمان پر گیا یا نہ گیا۔کیونکہ یہود کا یہ متنازع فیہ امر نہ تھا اور یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ جو شخص مصلوب ہو جائے وہ مع جسم عصری آسمان پر نہیں جاتا کیونکہ اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ جو شخص مصلوب نہ ہو وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلا جاتا ہے اور نہ یہود کا یہ عقیدہ ہے کہ بے ایمان اور لعنتی آدمی مع جسم آسمان پر نہیں جاتا مگر مومن مع جسم عصری آسمان پر چلا جاتا ہے کیونکہ موسی جو یہود کے نزدیک سب سے بڑا نبی تھا اس کی نسبت بھی یہود کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ وہ مع جسم آسمان پر چلا گیا۔پس تمام جھگڑا تو رفع روحانی کا تھا یہود کی طرف سے اپنے عقیدہ کے موافق یہ بحث تھی کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی ملعون ہیں کیونکہ ان کا رفع روحانی نہیں ہوا وجہ یہ کہ وہ صلیب کے ذریعہ سے مارے گئے پس اسی غلطی کو خدا تعالیٰ نے دور کرنا تھا سو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسی ملعون نہیں ہے بلکہ اس کا رفع روحانی اور مومنوں کی طرح ہو گیا۔یادر ہے کہ ملعون کا لفظ مرفوع کے مقابل پر آتا ہے جبکہ مرفوع کے معنے روحانی طور پر مرفوع ہو پس جو لوگ حضرت عیسی کو بوجہ مصلوب ہونے کے ملعون ٹھہراتے ہیں ان کے نزدیک ملعون کے معنے صرف اس قدر ہیں کہ ایسے شخص کا رفع روحانی نہیں ہوتا عیسائیوں نے بھی اپنی غلطی سے تین دن کے لیے حضرت عیسی کو ملعون مان لیا یعنی تین دن تک اس کا رفع روحانی نہیں ہوا۔اور ہمو جب ان کے عقیدہ کے حضرت عیسی ملعون ہونے کی حالت میں تحت الثریٰ میں گئے اور ساتھ کوئی جسم نہ تھا پھر مرفوع ہونے کی حالت میں کیوں جسم کی ضرورت ہوئی دونوں حالتیں ایک ہی رنگ کی ہونی چاہئیں۔یہ ہماری طرف سے عیسائیوں پر یہ الزام ہے کہ وہ بھی رفع کے بارے میں غلطی میں پھنس گئے وہ اب تک اس بات کے اقراری ہیں کہ صلیب کا نتیجہ توریت کی رو سے ایک روحانی امر تھا یعنی لعنتی ہونا جس کو دوسرے لفظوں میں عدم رفع کہتے ہیں۔پس بموجب ان کے عقیدہ کے عدم رفع روحانی طور پر ہی ہوا اس حالت میں رفع بھی روحانی ہونا چاہیے تھا تا تقابل قائم رہے، عیسائی صاحبان مانتے ہیں کہ حضرت عیسی ملعون ہونے کی حالت میں صرف روحانی طور پر تحت الشرمی اور دوزخ کی طرف گئے اس وقت ان کے ساتھ کوئی جسم نہ تھا پھر جبکہ یہ حالت ہے تو پھر مرفوع ہونے کی حالت میں کیوں جسم کی ضرورت پڑی اور کیوں جسم کو ساتھ ملایا گیا حالانکہ قدیم سے توریت کے ماننے والے تمام نبی اور تمام یہود کے فقیہ صلیبی لعنت کے یہی معنے کرتے آئے ہیں کہ روحانی طور پر رفع نہ ہو۔اور اب بھی یہی کرتے ہیں کہ جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے اس کا خدا تعالی کی طرف رفع نہیں ہوتا۔لعنت