تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 383
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۳ سورة النساء در حقیقت صلیبی موت سے بچائے گئے تھے کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہودی اس بات کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ کیوں کر حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بغیر ہڈیاں توڑنے کے صرف دو تین گھنٹہ میں نکل گئی۔اسی وجہ سے بعض یہودیوں نے ایک اور بات بنائی ہے کہ ہم نے مسیح کو تلوار سے قتل کر دیا تھا حالانکہ یہودیوں کی پرانی تاریخ کے رو سے مسیح کو تلوار کے ذریعہ سے قتل کرنا ثابت نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ مسیح کے بچانے کے لیے اندھیرا ہوا، بھونچال آیا ، پلاطوس کی بیوی کو خواب آئی ، سبت کے دن کی رات قریب آگئی جس میں مصلوبوں کو صلیب پر رکھنا روا نہ تھا۔حاکم کا دل بوجہ ہولناک خواب کے مسیح کے چھڑانے کے لیے متوجہ ہوا۔یہ تمام واقعات خدا نے اس لیے ایک ہی دفعہ پیدا کر دیئے کہ تا مسیح کی جان بچ جائے اس کے علاوہ مسیح کو ششی کی حالت میں کردیا کہ ہر ایک کو مردہ معلوم ہو۔اور یہودیوں پر اس وقت ہیبت ناک نشان بھونچال وغیرہ کے دکھلا کر بزدلی اور خوف اور عذاب کا اندیشہ طاری کر دیا۔اور یہ دھٹر کہ اس کے علاوہ تھا کہ سبت کی رات میں لاشیں صلیب پر نہ رہ جائیں پھر یہ بھی ہوا کہ یہودیوں نے مسیح کوششی میں دیکھ کرسمجھ لیا کہ فوت ہو گیا ہے۔اندھیرے اور بھونچال اور گھبراہٹ کا وقت تھا۔گھروں کا بھی ان کو فکر پڑا کہ شاید اس بھونچال اور اندھیرے سے بچوں پر کیا گزرتی ہوگی اور یہ دہشت بھی دلوں پر غالب ہوئی کہ اگر یہ اور شخص کا ذب اور کافر تھا جیسا کہ ہم نے دل میں سمجھا ہے تو اس کے اس دکھ دینے کے وقت ایسے ہولناک آثار کیوں ظاہر ہوئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے لہذا ان کے دل بیقرار ہو کر اس لائق نہ رہے کہ وہ مسیح کو اچھی طرح دیکھتے کہ آیا مر گیا یا کیا حال ہے۔مگر در حقیقت یہ سب امور مسیح کے بچانے کے لیے خدائی تدبیریں تھیں اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ولکن شُبِّهَ لَهُمْ یعنی یہود نے مسیح کو جان سے مارا نہیں ہے لیکن خدا نے ان کو شبہ میں ڈال دیا کہ گویا جان سے ماردیا ہے۔اس سے راست بازوں کی خدائے تعالیٰ کے فضل پر بڑی امید بڑھتی ہے کہ جس طرح اپنے بندوں کو چاہے بچالے۔مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۲،۵۱) افسوس کس قدر قرآن شریف کی تحریف کی جاتی ہے۔یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں ما قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ موجود ہے اس سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ کسی شخص کا نہ مقتول ہونا نہ مصلوب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھایا گیا ہو اگلی آیت میں صریح یہ لفظ موجود ہیں کہ لكن شُبَهَ لَهُمْ یعنی یہودی قتل کرنے میں کامیاب نہیں وو