تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 384

۳۸۴ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء ہوئے۔مگر ان کو شبہ میں ڈالا گیا کہ ہم نے قتل کر دیا ہے پس شبہ میں ڈالنے کے لیے اس بات کی کیا ضرورت تھی کہ کسی مومن کو مصلوب کر کے لعنتی بنایا جائے یا خود یہودیوں میں سے کسی کو حضرت عیسی کی شکل بنا کر صلیب پر چڑھایا جاوے کیونکہ اس صورت میں ایسا شخص اپنے تئیں حضرت عیسی کا دشمن ظاہر کر کے اور اپنے اہل وعیال کے پتے اور نشان دے کر ایک دم میں مخلصی حاصل کر سکتا تھا کہ عیسی نے جادو سے مجھے اپنی شکل پر بنا دیا ہے یہ کس قدر مجنونانہ تو ہمات ہیں کیوں لیکن شُبه لَهُمْ کے معنے یہ نہیں کرتے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت نہیں ہوئے مگر غشی کی حالت ان پر طاری ہو گئی تھی بعد میں دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسی کے استعمال سے ( جو آج تک صد باطبی کتابوں میں موجود ہے جو حضرت عیسی کے لیے بنائی گئی تھی ) ان کے زخم بھی اچھے ہو گئے۔پھر ایک اور بدقسمتی ہے کہ وہ ان آیتوں کے شان نزول کو نہیں دیکھتے۔قرآن شریف یہود و نصاری کے اختلافات دور کرنے کے لیے بطور حکم کے تھا تا ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے اور اس کا فرض تھا کہ ان کے متنازعہ فیہ امور کا فیصلہ کرتا پس منجملہ متنازعہ فیہ امور کے ایک یہ امر بھی متنازعہ فیہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ ہماری توریت میں لکھا ہے کہ جو کا ٹھ پر لڑکا یا جاوے وہ لعنتی ہوتا ہے اس کی روح مرنے کے بعد خدا کی طرف نہیں جاتی۔پس چونکہ حضرت عیسی صلیب پر مر گئے اس لیے وہ خدا کی طرف نہیں گئے اور آسمان کے دروازے ان کے لیے نہیں کھولے گئے اور عیسائیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عیسائی تھے اپنا یہ عقیدہ مشہور کیا تھا چنانچہ آج تک وہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی تصلیب پر جان دے کر لعنتی تو بن گئے مگر یہ لعنت اور وں کو نجات دینے کے لیے انہوں نے خود اپنے سر پر لے لی تھی اور آخر وہ نہ جسم عنصری کے ساتھ بلکہ ایک نئے اور ایک جلالی جسم کے ساتھ جو خون اور گوشت اور ہڈی اور زوال پذیر ہونے والے مادہ سے پاک تھا خدا کی طرف اٹھائے گئے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ان دونوں متخاصمین کی نسبت یہ فیصلہ دیا کہ یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ عیسی کی صلیب پر جان نکلی یا وہ قتل ہوا تا اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ وہ بموجب حکم تو ریت لعنتی ہے بلکہ وہ صلیبی موت سے بچایا گیا اور مومنوں کی طرح اس کا خدا کی طرف رفع ہوا اور جیسا کہ ہرا یک مومن ایک جلالی جسم خدا سے پا کر خدائے عزوجل کی طرف اٹھایا جاتا ہے وہ بھی اٹھائے گئے۔اور ان نبیوں میں جا ملے جو ان سے پہلے گزر چکے تھے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان سے سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ نے معراج سے واپس آکر بیان فرمایا کہ جیسے اور نبیوں کے مقدس اجسام دیکھے