تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 382
۳۸۲ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء امید کے موافق نہ پایا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا کہ ایلی ایلی لما سبقتانی‘“اے میرے خدا! اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔یعنی مجھے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہوگا اور میں صلیب پر مروں گا اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دعا سنے گا۔پس ان دونوں مقامات انجیل سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح کو خود دلی یقین تھا کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی اور میرا تمام رات کا روروکر دعا کرنا ضائع نہیں جائے گا۔اور خود اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے شاگردوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ اگر دعا کرو گے تو قبول کی جائے گی بلکہ ایک مثال کے طور پر ایک قاضی کی کہانی بھی بیان کی تھی کہ جو نہ خلقت سے اور نہ خدا سے ڈرتا تھا اور اس کہانی سے بھی مدعا یہ تھا کہ تا حواریوں کو یقین آجائے کہ بیشک خدائے تعالیٰ دعا سنتا ہے۔اور اگر چہ میچ کو اپنے پر ایک بڑی مصیبت کے آنے کا خدائے تعالی کی طرف سے علم تھا۔مگر مسیح نے عارفوں کی طرح اس بنا پر دعا کی کہ خدائے تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور ہر ایک محوداثبات اس کے اختیار میں ہے۔لہذا یہ واقعہ کہ نعوذ باللہ مسیح کی خود دعا قبول نہ ہوئی یہ ایک ایسا امر ہے جو شاگردوں پر نہایت بداثر پیدا کرنے والا تھا۔سو کیوں کر ممکن تھا کہ ایسا نمونہ جو ایمان کو ضائع کرنے والا تھا حواریوں کو دیا جاتا جبکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسیح جیسے بزرگ نبی کی تمام رات کی پر سوز دعا قبول نہ ہوسکی تو اس بدنمونہ سے ان کا ایمان ایک سخت امتحان میں پڑتا تھا۔لہذا خدا تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دعا کو قبول کرتا یقیناً سمجھو کہ وہ دعا جو گمینی نام مقام میں کی گئی تھی ضرور قبول ہو گئی تھی۔مسیح ہندوستان میں ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۹ تا ۳۱) اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ - الآي- وَمَا قَتَلُوهُ یقینا الآیہ یعنی یہودیوں نے نہ حضرت مسیح کو در حقیقت قتل کیا اور نہ بذریعہ صلیب ہلاک کیا بلکہ ان کو محض ایک شبہ پیدا ہوا کہ گویا حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت ہو گئے ہیں اور ان کے پاس وہ دلائل نہیں ہیں جن کی وجہ ا سے ان کے دل اس بات پر مطمئن ہو سکیں کہ یقیناً حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر جان نکل گئی تھی۔ان آیات میں اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ یہ بیچ ہے کہ بظاہر مسیح صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے مارنے کا ارادہ کیا گیا مگر یہ محض ایک دھوکا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا خیال کر لیا کہ در حقیقت لیہ حضرت مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکل گئی تھی بلکہ خدا نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے جن کی وجہ سے وہ صلیبی موت سے بیچ رہا۔اب انصاف کرنے کا مقام ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے یہود اور نصاری کے برخلاف فرمایا تھا آخر کار وہی بات سچی نکلی اور اس زمانہ کی اعلیٰ درجہ کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح