تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 354
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۴ سورة النساء جو ظاہر کیا ہے ایمان نہ رکھتا ہو قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لاوے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مرگیا۔یعنی ہم بیان کر آئے ہیں کہ کوئی اہل کتاب اس بات پر دلی یقین نہیں رکھتا کہ در حقیقت مسیح مصلوب ہو گیا ہے کہ عیسائی اور کیا یہودی صرف ظن اور شبہ کے طور پر ان کے مصلوب ہونے کا خیال رکھتے ہیں۔یہ ہمارا بیان صحیح ہے کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ہاں اس کی موت کے بارہ میں انہیں خبر نہیں کہ وہ کب مراسو اس کی ہم خبر دیتے ہیں کہ وہ مر گیا اور اس کی روح عزت کے ساتھ ہماری طرف اٹھائی گئی۔اس جگہ یادر ہے کہ خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں کہ ہمارے اس بیان پر جوان کے خیالات کے بارہ میں ہم نے ظاہر کیا ایمان نہ رکھتا ہو یہ ایک اعجازی بیان ہے اور سی اس آیت کے موافق ہے جیسا کہ یہودیوں کو فرمایا تھا: فَتَسَنُوا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُم صُدِقِينَ سواس فرمانے سے مدعا یہ تھا کہ در حقیقت یہودیوں کا یہ بیان کہ ہم نے در حقیقت مسیح کو پھانسی دے دیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظور تھا کہ نعوذ باللہ ریح ملعون ہے اور نبی صادق نہیں اور ایسا ہی عیسائیوں کا یہ بیان کہ در حقیقت مسیح پھانسی کی موت سے مر گیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظور تھا کہ مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لیے کفارہ ہوا۔یہ دونوں خیال یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط ہیں اور کسی کو ان دونوں گروہ میں سے ان خیالات پر دلی یقین نہیں بلکہ دلی ایمان ان کا صرف اسی پر ہے کہ مسیح یقینی طور پر مصلوب نہیں ہوا اس تقریر سے خدائے تعالیٰ کا یہ مطلب تھا کہ تا یہودیوں اور عیسائیوں کی خاموشی سے منصفین قطعی طور پر سمجھ لیویں کہ اس بارے میں بجز شک کے ان کے پاس کچھ نہیں اور یہودی اور عیسائی جو اس آیت کوسن کر چپ رہے اور انکار کے لیے میدان میں نہ آئے تو اس کی یہ وجہ تھی کہ وہ خوب جانتے تھے کہ اگر ہم مقابل پر آئے اور وہ دعوی کیا جو ہمارے دل میں نہیں تو ہم سخت رسوا کیسے جائیں گے اور کوئی ایسا نشان خدائے تعالی کی طرف سے ظاہر ہو جائے گا جس سے ہمارا جھوٹھا ہونا ثابت ہو جائے گا اس لیے انہوں نے دم نہ مارا اور چپ رہے اور اگر چہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہماری اس خاموشی سے ہمارا مان لینا ثابت ہو جائے گا جس سے ایک طرف تو ان کفار کے اس عقیدہ کی بیخ کنی ہوگی اور ایک طرف یہ یہودی عقید ہ باطل ثابت ہو جائے گا کہ مسیح خدائے تعالی کا سچا رسول اور راست باز نہیں اور ان میں سے نہیں جن کا خدائے تعالیٰ کی طرف عزت کے ساتھ رفع ہوتا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی چمکتی ہوئی تلوار ان کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی پس جیسا کہ قرآن شریف میں انہیں کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو لیکن مارے خوف کے کسی نے یہ تمنا نہ کی اسی طرح اس جگہ بھی مارے خوف کے انکار نہ کر سکے یعنی یہ دعوی نہ کر سکے کہ ہم تو مسیح کے مصلوب ہونے پر یقین رکھتے ہیں ہمیں کیوں