تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 355
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۵ سورة النساء بے یقینوں میں داخل کیا جاتا ہے سو ان کا نبی کے زمانہ میں خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ کے لیے حجت ہوگئی اور ان کے ساختہ پر داختہ کا اثر ان کی آنے والی ذریتوں پر بھی پڑا کیونکہ سلف خلف کے لیے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو مانی پڑتی ہیں۔اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے جو اس بحث کو چھیڑا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا بلکہ اپنی موت سے فوت ہوا اس تمام بحث سے یہی غرض تھی کہ مسیح کے مصلوب ہونے سے دو مختلف فرقے یعنی یہود اور عیسائی دو مختلف نتیجے اپنی اپنی اغراض کی تائید میں نکالتے تھے یہودی کہتے تھے کہ مسیح مصلوب ہو گیا اور توریت کی روسے مصلوب لعنتی ہوتا ہے یعنی قرب الہی سے مہجور اور رفع کی عزت سے بے نصیب رہتا ہے اور شان نبوت اس حالت ذلت سے برتر و اعلیٰ ہے۔اور عیسائیوں نے یہودیوں کی لعن و طعن سے گھبرا کر یہ جواب بنالیا تھا کہ مسیح کا مصلوب ہونا اس کے لیے مضر نہیں بلکہ یہ لعنت اس نے اس لیے اپنے ذمہ لے لی کہ تا گنہ گاروں کو لعنت سے چھڑا دے۔سو خدائے تعالی نے ایسا فیصلہ کیا کہ ان دونوں فریق کے بیانات مذکورہ بالا کو کالعدم کردیا اور ظاہر فرما دیا کہ کسی کو ان دونوں گروہ میں سے مسیح کے مصلوب ہونے پر یقین نہیں اور اگر ہے تو وہ سامنے آوے سودہ بھاگ گئے اور کسی نے دم بھی نہ مارا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کا ایک معجزہ ہے جو اس زمانہ کے نادان مولویوں کی نگاہ سے چھپا ہوا ہے اور مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت کشفی طور پر یہ صداقت مذکورہ بالا میرے پر ظاہر کی گئی ہے اور اسی معلم حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ سب لکھا ہے جو ابھی لکھا ہے فالحمد للہ علی ڈالک۔اور عقلی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو اس بیان کی سچائی پر ہر یک عقل سلیم گواہی دے گی کیونکہ خدائے تعالیٰ کا کلام لغو باتوں سے منزہ ہونا چاہیے اور ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر اس بحث میں یہ مقاصد عظمی درمیان نہ سکتا ہوں تو یہ سارا بیان ایسا لغو ہوگا جس کے تحت کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ جھگڑا کہ کوئی نبی پھانسی ملا یا اپنی طبعی موت سے مرا بالکل بے فائدہ جھگڑا ہے جس سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔سو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس پر جوش اور کروفر کے بیان میں کہ کسی یہودی یا عیسائی کو یقینی طور پر مسیح کی مصلوبیت پر ایمان نہیں کون سی بڑی غرض رکھتا ہے؟ اور کون سا بھارا مدعا اس کے زیر نظر ہے جس کے اثبات کے لیے اس نے دونوں فریق یہود اور نصاری کو خاموش اور لاجواب کر دیا ہے سو یہی مدعا ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے اس عاجز بندہ پر کہ جو مولویوں کی نظر میں کافر اور ملحد ہے اپنے خاص کشف کے ذریعہ