تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 353

۳۵۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء لیے یہی ایک راہ ہے کہ انسان قتل کیا جائے یا صلیب پر کھینچا جائے؟ بلکہ اس نفی سے مدعا اور مطلب یہ ہے کہ توریت استثنا۔باب ۲۱ آیت ۲۳ میں لکھا ہے کہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے اور یہود جنہوں نے اپنے زعم میں حضرت عیسی کو پھانسی دے دیا تھا وہ بہ تمسک اس آیت کے یہ خیال رکھتے تھے کہ مسیح ابن مریم نہ نبی تھا اور نہ مقبول الہی کیونکہ وہ پھانسی دیا گیا اور توریت بیان کر رہی ہے کہ جو شخص پھانسی دیا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے سوخدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اصل حقیقت ظاہر کر کے ان کے اس قول کو رد کرے سو اس نے فرمایا کہ مسیح ابن مریم در حقیقت مصلوب نہیں ہوا اور نہ مقتول ہوا بلکہ اپنی موت سے فوت ہوا۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۷۷) اور یہودی جو خدائے تعالیٰ کی رحمت اور ایمان سے بے نصیب ہو گئے اس کا سبب ان کے وہ برے کام ہیں جو انہوں نے کئے منجملہ ان کے یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ لوہم نے اس مسیح عیسی ابن مریم کو قتل کر دیا جو رسول اللہ ہونے کا دعوی کرتا تھا ( یہودیوں کا کہنا کہ ہم نے عیسیٰ رسول اللہ کو قتل کر دیا اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ حضرت مسیح کو رسول جانتے تھے کیونکہ اگر وہ اس کو سچا رسول جانتے تو سولی دینے کے لیے کیوں آمادہ ہوتے بلکہ یہ قول ان کا کہ لو ہم نے اس رسول کو پھانسی دے دیا بطور استہزا کے تھا اور اس ہنسی ٹھٹھے کی بنا توریت کے اس قول پر تھی جولکھا ہے کہ جو پھانسی دیا جائے وہ ملعون ہے یعنی خدائے تعالیٰ کی رحمت اور قرب الہی سے دور و مجور ہے اور یہودیوں کے اس قول سے مدعا یہ تھا کہ اگر عیسی ابن مریم سچا رسول ہوتا تو ہم اس کو پھانسی دینے پر ہرگز قادر نہ ہو سکتے کیونکہ توریت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ مصلوب لعنتی ہوتا ہے ) اب قرآن شریف اس آیت کے بعد فرماتا ہے کہ در حقیقت یہودیوں نے مسیح ابن مریم کو قتل نہیں کیا اور نہ پھانسی دیا بلکہ یہ خیال ان کے دلوں میں شہر کے طور پر ہے یقینی نہیں اور خدائے تعالیٰ نے ان کو آپ ہی شبہ میں ڈال دیا ہے تا ان کی بیوقوفی ان پر اور نیز اپنی قادر بیت ان پر ظاہر کرے اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو اس شک میں پڑے ہوئے ہیں کہ شاید مسیح پھانسی ہی مل گیا ہو ان کے پاس کوئی یقینی قطعی دلیل اس بات پر نہیں صرف ایک ظن کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ خوب جانتے ہیں کہ انہیں یقینی طور پر اس بات کا علم نہیں کہ مسیح پھانسی دیا گیا بلکہ یقینی امر یہ ہے کہ وہ فوت ہو گیا اور اپنی طبعی موت سے مرا اور خدائے تعالیٰ نے اس کو راست باز بندوں کی طرح اپنی طرف اٹھالیا اور خدا عزیز ہے ان کو عزت دیتا ہے جو اس کے ہورہتے ہیں اور حکیم ہے اپنی حکمتوں سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو اس پر توکل کرتے ہیں اور پھر فرمایا کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت