تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 331

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣١ سورة النساء تَقُولُ وَاللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وكيلات کرتا۔كفى بالله وكيلاً یعنی خدا اپنے کاموں کا آپ ہی وکیل ہے کسی دوسرے کو پوچھ پوچھ کر احکام جاری نہیں ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۸) أفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا گشیران فَأَشَارَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّ الإختلاف اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ) اس بات کی طرف اشارہ لَا يُوجَدُ فِي الْقُرْآنِ، وَهُوَ كِتَابُ الله کیا ہے کہ قرآن مجید میں اختلاف نہیں پایا جاتا اور وہ اللہ وَشَأْنُه أَرْفَعُ مِنْ هَذَا، وَإِذَا ثَبَتَ أَن تعالیٰ کی کتاب ہے اور اللہ کی شان ایسے امور سے بالا ہے اور كِتَابَ اللهِ مُنَزِّهُ عَنِ الْإِنختلافات جب یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن مجید اختلافات سے پاک ہے تو فَوَجَبْ عَلَيْنَا أَلا تختار في تفسيره ہم پر واجب ہے کہ اس کی تفسیر کرتے وقت ہم کوئی ایسا طَرِيقًا يُوجِبُ التَّعَارُضَ وَالتَّنَا قُضَ طریق اختیار نہ کریں جو تعارض اور تناقض کا موجب ہو۔(حمامتہ البشرى، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۵۶ حاشیه ) (ترجمه از مرتب) یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے اور اگر وہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔اور ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں تو اس زمانہ کے لوگوں کا حق تھا کہ اگر ان کے نزدیک کوئی اختلاف تھا تو وہ پیش کرتے مگر سب ساکت ہو گئے اور کسی نے دم نہ مارا اور اختلاف کیوں کر اور کہاں سے ممکن ہے جس حالت میں تمام احکام ایک ہی مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی علمی اور عملی رنگ میں اور درشتی اور نرمی کے پیرایہ میں خدا کی توحید پر قائم کرنا اور ہوا و ہوس چھوڑ کر خدا کی توحید کی طرف کھینچنا ہی قرآن کا مدعا ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۹۸) اگر وحی نبوت میں کبھی کچھ بیان ہواور کبھی کچھ تو اس سے امان اٹھ جاتا ہے۔( ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۰۹) جولوگ قصص اور ہدایات میں تمیز نہیں کرتے ان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور قرآن کریم میں