تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 330

٣٣٠ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء الْآيَةِ، وَبَلَّغْنَا الْفِكْرَ إِلَى النِهَايَةِ، فَانْكَشَفَ تک پہنچایا تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ یہ آیت کمالات أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ أَكْبَرُ شَوَاهِدِ كَمَالَاتِ صدیقیہ کے بڑے شواہد میں سے ہے اور اس میں ایک الصديقِ، وَفِيهَا سِر عَمِيق يُنكَشِفُ عَلى گہرا راز ہے اور وہ ہر اس شخص پر ظاہر ہوتا ہے جو تحقیق كُل مَن يتمايل عَلَى التَّحْقِيقِ فَإِنَّ أَبا بَكْرِ کی طرف مائل ہو۔پس حضرت ابو بکر" کا نام رسول کریم لى صِدِيقًا عَلى لِسَانِ الرَّسُوْلِ الْمَقْبُولِ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے صدیق رکھا گیا وَالْفُرْقَانُ أَلْحَقَ الصَّدِيقِينَ بِالْأَنْبِيَاءِ كَمَا اور قرآن کریم نے صدیقوں کو انبیاء کے ساتھ ملایا ہے لَا يَخْفَى عَلَى ذَوِى الْعُقُولِ، وَلَا تَجِدُ إطلاق جیسا کہ یہ بات کسی عقلمند پر مخفی نہیں اور ہم صدیق کے هذا اللقب والخطاب عَلَى أَحَدٍ مِّنَ لقب اور خطاب کا اطلاق صحابہ میں سے کسی اور پر نہیں الْأَصْحَابِ فَتَبَتَ فَضِيلَةُ الصِّدِّيقِ پاتے۔پس اس سے اس صدیق امین کی فضیلت ثابت الْأَمِينِ، فَإِنَّ اسْتَمَهُ ذُكِرَ بَعْدَ النَّبِيِّينَ ہوتی ہے کیونکہ آپ کا نام نبیوں کے بعد ذکر کیا گیا ہے فَانْظُرْ بِالإِنابَةِ وَفَارِقُ غِشَاوَةُ الإسترابة پس تو پوری توجہ سے دیکھا اور شک کے پردوں کو پھاڑ ڈال۔(سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۵۷) ( ترجمه از مرتب) اَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمُ في بُرُوج مُشَيَّدَةٍ وَإِن تُصِبْهُم فِى : حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۚ وَ إِنْ تُصِبُهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللهِ فَمَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ (۹) حَدِيثًا یعنی جس جگہ تم ہو اُسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی اگر چہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بودوباش اختیار کرو۔اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر یک جگہ جسم خاکی پر وارد ہو جاتے ہیں یہی سنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا پس بلاشبہ یہ اشارات النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض و آفات منجر و الی الموت تک پہنچاتا ہے اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۶) وَ يَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِنْدِكَ بَيْتَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ غَيْرَ الَّذِى