تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 329
۳۲۹ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء ہوتی ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ کمال ہے۔ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کمالات کے حاصل کرنے کے لیے جہاں مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے اس طریق پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کوشش کرے۔۔۔۔۔اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۶) الہام صحیح اور بچے کے لیے یہی شرط لازمی ہے کہ اس کے مقامات مجملہ کی تفصیل بھی اسی الہام کے ذریعہ سے کی جائے جیسا کہ قرآن کریم میں یعنی سورہ فاتحہ میں یہ آیت ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - اب اس آیت میں جو انعمت علیھم کا لفظ ہے یہ ایک مجمل لفظ تھا اور تشریح طلب۔اَنْعَمتَ تھا تو خدا تعالیٰ نے دوسرے مقام میں خود اس کی تشریح کر دی اور فرمایا کہ أُولَبِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۱۵) قَلّى اللهُ ذِكْرَ الصَّدِيقِينَ بَعْدَ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے ذکر کے بعد صد یقوں کا ذکر النَّبِيِّينَ وَقَالَ أُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ فرمایا ہے جیسے کہ فرمایا أُولَبِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَ وَالشُّهَدَاءِ وَ الصَّلِحِينَ وَفِي ذلِكَ الصَّلِحِينَ اس میں حضرت ابوبکر کی طرف اور دوسروں پر إِشَارَاتُ إِلَى الضِيِّيْنِ وَتَفْضِيْلِهِ عَلَی آپ کی فضیلت کی طرف کئی ایک اشارے ہیں کیونکہ الْآخَرِينَ، فَإِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے آپ کے سوا وَسَلَّمَ مَا سَلمى أحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ کسی کا نام صدیق نہیں رکھا تا کہ آپ کے مقام اور آپ کی صِدِّيقًا إِلَّا إِيَّاهُ لِيُظْهِرَ مَقَامَهُ وَرَيَّاهُ فضیلت کو ظاہر کرے پس غور کرنے والوں کی طرح دیکھو فَانْظُرْ كَالْمُتَدَثِرِينَ وَفِي الْآيَةِ إِشَارَةٌ پھر اس آیت میں سالکوں کے لیے مراتب کمال اور ان عَظِيمَةٌ إلى مَرَاتِبِ الْكَمَالِ وَأَهْلِهَا مراتب کے حاصل کرنے والوں کی طرف ایک بلیغ اشارہ لِقَوْمٍ سالكين وَ إِنَّا إِذَا تَدَبَّرُنَا هَذِهِ ہے جب ہم نے اس آیت پر تدبر کیا اور اپنے فکر کو انتہا