تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 307

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۷ سورة النساء السلام علیکم کہتی اور سارے قومی رخصت کر کے الگ ہو جاتے ہیں اور جہاں سے یہ آیا ہے وہیں چلا جاتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا ( یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ) اور اس میں بذات خود کوئی قوت اور طاقت نہیں ہے جب تک خدا تعالیٰ خود نہ عطا فرمادے اگر آنکھیں ہیں اور تم ان سے دیکھتے ہو یا کان ہیں اور تم ان سے سنتے ہو یا زبان ہے اور تم اس سے بولتے ہو تو یہ سب خدا کا فضل ہے کہ یہ سب قوی اپنا اپنا کام کر رہے ہیں وگرنہ اکثر لوگ مادر زاد اندھے یا بہرے یا گونگے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض بعد پیدائش کے دوسرے حوادثات سے ان نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں مگر تمہاری آنکھیں بھی نہیں دیکھ سکتیں جب تک روشنی نہ ہو اور کان نہیں سن سکتے جب تک ہوا نہ ہو۔ پس اس سے سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ دیا گیا ہے جب تک آسمانی تائید اس کے ساتھ نہ ہو تب تک تم محض بیکار ہو ۔ ایک بات کو تم کتنے ہی صدق دل سے قبول کرو مگر جب تک فضل الہی شامل حال نہیں تم اس پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۵ مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ صفحه (۳) انسان کمزور ہے جب تک دعا سے قوت اور تائید نہیں پاتا اس دشوار گزار منزل کو طے نہیں کر سکتا خود اللہ تعالیٰ انسان کی کمزوری اور اس کے ضعف حال کے متعلق ارشاد فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا یعنی انسان ضعیف اور کمزور بنایا گیا ہے پھر باوجود اس کی کمزوری کے اپنی ہی طاقت سے ایسے عالی درجہ اور ارفع مقام کے حاصل کرنے کا دعویٰ کرنا سراسر خام خیالی ہے۔ اس کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۴) بچہ کو اگر دودھ نہ ملے تو وہ کب تک جئے گا ؟ آخر سسک کر مر جائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے انقطاع امداد ہو تو انسان چونکہ کمزور اور ضعیف ہے جیسا کہ فرمایا خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا پس وہ بھی آخر روحانی طور پر مر جائے گا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۸) انسان ناتوان ہے۔ غلطیوں سے پر ہے۔ مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ پس دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بناوے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۸ صفحه (۳) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمُ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمُ رَحِيمًا ناجائز طور ایک دوسرے کے مال مت کھاؤ مگر باہم رضامندی کی تجارت سے ۔ ( شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۱)