تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 306
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٦ سورة النساء۔۔۔۔۔۔۔وَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُونِ۔۔۔۔۔۔۔۔۲۶ مہر کی مقدار کس قدر ہو؟) فرمایا کہ تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا۔اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لیے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے صرف ڈراوے کے لیے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کے دینے کی۔میرا مذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آ پڑے تو جب تک اس کی نیت یہ ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا ورغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلا یا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مدنظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بد نیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲۳) قانون۔ج يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًات ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۱۵۸) ضعیفا اس کی حقیقت ہے۔انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے یہی کمزوری ہے کہ اگر الہی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہو تو انواع اقسام کے گناہوں کا موجب ہو جاتی ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۵ صفحه (۱۹۱) یقیناً یا د رکھو کہ انسان کمزوریوں کا مجموعہ ہے اور اسی لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا اس کا اپنا تو کچھ بھی نہیں سر سے پاؤں تک اتنے اعضا نہیں جس قدر امراض اس کو لاحق ہوتے ہیں پھر جب وہ اس قدر کمزوریوں کا نشانہ اور مجموعہ ہے تو اس کے لیے امن اور عافیت کی یہی سبیل ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ صاف ہو اور وہ اس کا سچا اور مخلص بندہ بنے۔اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدق کو اختیار کرے۔جسمانی نظام کی کل بھی صدق ہی ہے جو شخص صدق کو چھوڑتے ہیں اور خیانت کر کے جرائم کو پناہ میں لانے والی سپر کذب کو خیال کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔(احکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۵ صفحه ۲) بیماری کی شدت سے موت اور موت سے خدا یاد آتا ہے اصل یہ ہے کہ خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا انسان چند روز کے لیے زندہ ہے ذرہ ذرہ کا وہی مالک ہے جوحی و قیوم ہے جب وقت موعود آ جاتا ہے تو ہر ایک چیز