تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 308
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۸ سورة النساء لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ تم خود کشی نہ کرو۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶) الرِّجَالُ قَوَمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا اَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ، فَالصَّلِحْتُ قنتت حفظت لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظ الله و التي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ b فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ملوک کے خیالات کا مذہب، طرز، لباس وغیرہ ہر قسم کے امور کا اخلاقی ہوں یا مذہبی بہت بڑا اثر رعایا پر پڑتا ہے۔جیسے ذکور کا اثر اناث پر پڑتا ہے اس لیے فرمایا گیا ہے۔الرِّجَالُ قَؤْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ اپریل ۱۹۰۱ء صفحه ۲) یہ بھی عورتوں میں خراب عادت ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ برا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجانہ لائے اور پس پشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیر خواہ نہ ہواور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار ر ہیں ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربانی سن کر پھر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔عورتوں کو چاہیے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چر اویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچاویں۔اور یا درکھنا چاہیے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں ان سے پردہ کرنا ضروری ہے۔جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بد کار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں اور میں نہ آنے دیں اور ان کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بد کا رعورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۸۶،۸۵)