تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 294
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۴ سورة النساء کے لیے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ اس میں سے کسی کا حصہ تھوڑا ہو یا بہت ہو بہر حال ہر ایک کے لئے ایک حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور جب ترکہ کی تقسیم کے وقت ایسے قرابتی لوگ حاضر آویں جن کو حصہ نہیں پہنچتا۔ ایسا ہی اگر یتیم اور مسکین بھی تقسیم کے موقع پر آجاویں تو کچھ کچھ اس مال میں سے ان کو دے دو اور ان سے معقول طور پر پیش آؤ یعنی نرمی اور خلق کے ساتھ پیش آؤ اور سخت جواب نہ دو اور وارثان حقدار کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرتے تو ان کے حال پر ان کو کیسا کچھ ترس نہ آتا اور کیسی وہ ان کی کمزوری کی حالت کو دیکھ کر خوف سے بھر جاتے پس چاہیے کہ وہ کمزور بچوں کے ساتھ سختی کرنے میں اللہ سے ڈریں اور ان کے ساتھ سیدھی طرح بات کریں یعنی کسی قسم کے ظلم اور حق تلفی کا ارادہ نہ کریں ۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۱۲) تلفی ہو۔ وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعْفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ اور جو شخص فوت ہونے لگے اور بچے اس کے ضعیف اور صغير السن ہوں تو اس کو نہیں چاہیے کہ کوئی ایسی وصیت کرے کہ جس میں بچوں کی حق اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَثْنَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَ سَيَصْلُونَ سَعِيرًا جو لوگ ایسے طور سے یتیم کا مال کھاتے ہیں جس سے یتیم پر ظلم ہو جائے تو وہ مال نہیں بلکہ آگ کھاتے ہیں اور آخر جلانے والی آگ میں ڈالے جائیں گے ۔ اب دیکھو خدائے تعالیٰ نے دیانت اور امانت کے کس قدر پہلو بتلائے ۔ سو حقیقی دیانت اور امانت وہی ہے جو ان تمام پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اگر پوری عقل مندی کو دخل دے کر امانت داری میں تمام پہلوؤں کا لحاظ نہ ہو تو ایسی دیانت اور امانت کئی طور سے چھپی ہوئی خیانتیں اپنے ہمراہ رکھے گی۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۚ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءَ فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَ لا بَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُنْ