تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 295
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة النساء لّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَةٌ اَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ القُلْتُ فَإِنْ كَانَ لَهُ اخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِهَا اَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَ ابْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةٌ مِنَ اللهِ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا وَ لَكُمْ ۖ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ، وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا دوو تَرَكْتُم إِن لَّمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُؤْصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنِ وَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَللَةً أَوِ امْرَاةٌ ، وَلَةَ اَحْ أَوْ أَخْتَ فَلِكُلِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثَّلْثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارِ وَصِيَّةٌ مِّنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ تمہاری اولاد کے حصوں کے بارے میں خدا کی یہ وصیت ہے کہ لڑکے کو دولڑکیوں کے برابر حصہ دیا کرو پھر اگر لڑکیاں دو یا دو سے بڑھ کر ہوں تو جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہے اس مال میں سے ان کا حصہ تہائی ہے اور اگر لڑ کی اکیلی ہو تو وہ مال متروکہ میں سے نصف کی مستحق ہے۔اور میت کے ماں باپ کو یعنی دونوں میں سے ہر ایک کو اس مال میں سے جو میت نے چھوڑا ہے چھٹا حصہ ہے اور یہ اس حالت میں کہ مرنے والا کچھ اولا د چھوڑ گیا ہو اور اگر مرنے والا لا ولد مرا ہو اور اس کے وارث صرف ماں باپ ہوں تو ماں کا حصہ صرف ایک تہائی ہے باقی سب باپ کا۔اگر ماں باپ کے علاوہ میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہنیں ہوں تو اس صورت میں ماں کا چھٹا حصہ ہوگا لیکن یہ حصہ وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد دینا ہوگا۔تمہارے باپ ہوں یا بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ ان میں سے باعتبار نفع رسانی کے کون سا تم سے زیادہ قریب سے پس جو حصے خدا نے قرار دے دیتے ہیں ان پر کار بند ہو جاؤ کیونکہ وہ صرف خدا ہی ہے جس کا علم غلطی اور خطا سے پاک ہے اور جو حکمت سے کام کرتا اور ہر ایک مصلحت سے واقف ہے اور جو تر کہ تمہاری بیبیاں چھوڑ مریں پس اگر وہ لا ولد مر جاویں تو ان کے ترکے میں سے تمہارا آدھا حصہ ہے اور اگر تمہاری بیبیوں کی اولاد ا، یہ اس لیے ہے کہ لڑکی سسرال میں جا کر ایک حصہ لیتی ہے پس اس طرح سے ایک حصہ ماں باپ کے گھر سے پا کر اور ایک حصہ سسرال سے پا کر اس کا حصہ لڑکے کے برابر ہو جاتا ہے۔منہ