تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 293

۲۹۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء اپنے مال کو ضائع کر دے گا تو تم ( بطور کورٹ آف وارڈس کے ) وہ تمام مال اس کا متکفل کے طور پر اپنے قبضہ میں لے لو اور وہ تمام مال جس پر سلسلہ تجارت اور معیشت کا چلتا ہے ان بیوقوفوں کے حوالہ مت کرو اور اس مال میں سے بقدر ضرورت ان کے کھانے اور پہننے کے لیے دے دیا کرو اور ان کو اچھی باتیں قول معروف کی کہتے رہو یعنی ایسی باتیں جن سے ان کی عقل اور تمیز بڑھے اور ایک طور سے ان کے مناسب حال ان کی تربیت ہو جائے اور جاہل اور ناتجربہ کار نہ رہیں اگر وہ تاجر کے بیٹے ہیں تو تجارت کے طریقے ان کو سکھلاؤ اور اگر کوئی اور پیشہ رکھتے ہوں تو اس پیشہ کے مناسب حال ان کو پختہ کر دو۔غرض ساتھ ساتھ ان کو تعلیم دیتے جاؤ اور اپنی تعلیم کا وقتا فوقتا امتحان بھی کرتے جاؤ کہ جو کچھ تم نے سکھلایا انہوں نے سمجھا بھی ہے یا نہیں۔پھر جب نکاح کے لائق ہو جائیں یعنی عمر قریباً اٹھارہ برس تک پہنچ جائے اور تم دیکھو کہ ان میں اپنے مال کے انتظام کی عقل پیدا ہو گئی ہے تو ان کا مال ان کے حوالہ کرو اور فضول خرچی کے طور پر ان کا مال خرچ نہ کرو اور نہ اس خوف سے جلدی کر کے کہ اگر یہ بڑے ہو جائیں گے تو اپنا مال لے لیں گے ان کے مال کا نقصان کرو۔جو شخص دولت مند ہو اس کو نہیں چاہیے کہ ان کے مال میں سے کچھ حق الخدمت لیوے لیکن ایک محتاج بطور معروف لے سکتا ہے۔عرب میں مالی محافظوں کے لیے یہ طریق معروف تھا کہ اگر قیموں کے کار پرداز ان کے مال میں سے لینا چاہتے تو حتی الوسع یہ قاعدہ جاری رکھتے کہ جو کچھ یتیم کے مال کو تجارت سے فائدہ ہوتا اس میں سے آپ بھی لیتے راس المال کو تباہ نہ کرتے۔سو یہ اسی عادت کی طرف اشارہ ہے کہ تم بھی ایسا کرو اور پھر فرمایا کہ جب تم یتیموں کو مال واپس کرنے لگو تو گواہوں کے رو بروان کو ان کا مال دو۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۶، ۳۴۷) لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَنِ وَ الْاَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَنِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا وَإِذَا ، حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُم قَوْلًا مَّعْرُوفًا وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعْفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًان مردوں کے لیے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں ایسا ہی عورتوں