تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 280

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۰ سورة النساء یہ آپ ہی کی سنت مسلمانوں میں اب تک جاری ہے کہ کسی عزیز کی موت کے وقت کہا جاتا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة : ۱۵۷) یعنی ہم خدا کے ہیں اور خدا کا مال ہیں اور اسی کی طرف ہمارا رجوع ہے۔سب سے پہلے یہ صدق و وفا کے کلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے پھر دوسروں کے لیے اس نمونہ پر چلنے کا حکم ہو گیا۔اگر آنجناب بیویاں نہ کرتے اور لڑکے پیدا نہ ہوتے تو ہمیں کیوں کر معلوم ہوتا کہ آپ خدا کی راہ میں اس قدر فدا شدہ ہیں کہ اولاد کو خدا کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۷ تا ۳۰۰) کثرت ازدواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو تین تین چار چار کر کے ہی آئے ہیں۔مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جاوے یا آمدنی کم ہو اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز کرنا نہیں چاہیے۔ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلا میں نہ ڈالے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - (المائدة : ٨٨) حلال پر بھی ایسا زور نہ مارو کہ نفس پرست ہی بن جاؤ۔غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر بیویوں ہی کا بندہ ہو جاوے تو بھی غلطی کرتا ہے۔ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی منشاء کو نہیں سمجھ سکتا۔اس کا یہ منشا نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جاؤ۔اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبانیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تیں بے جا کاروائیوں میں نہ ڈالو۔انبیاء علیہم السلام کے لیے کوئی نہ کوئی تخصیص اگر اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے تو یہ کوتاہ اندیش لوگوں کی ابلہ فریبی اور غلطی ہے کہ وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں دیکھو تو ریت میں کا ہنوں کے فرقہ کے ساتھ خاص مراعات ملحوظ رکھی گئی ہیں اور ہندوؤں کے برہمنوں کے لیے خاص خاص رعایتیں ہیں۔پس یہ نادانی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کسی تخصیص پر اعتراض کیا جاوے ان کا نبی ہونا ہی سب سے بڑی خصوصیت ہے جو اور لوگوں میں موجود نہیں۔الحکم جلد ۲ نمبر ۲ مورخه ۶ / مارچ ۱۸۹۸ء صفحه ۲) کثرت ازدواج پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے بہت عورتوں کی اجازت دی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا دلیر اور مرد میدان معترض ہے جو ہم کو یہ دکھلا سکے کہ قرآن کہتا ہے ضرور ضرور ایک سے زیادہ عورتیں کرو۔ہاں یہ ایک سچی بات ہے۔اور بالکل طبیعی امر ہے کہ اکثر اوقات انسان کو ضرورت پیش آجاتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ عورتیں کرے۔مثلاً عورت اندھی ہوگئی یا کسی اور خطرناک ( مرض ) میں مبتلا ہو کر