تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 281
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۱ سورة النساء اس قابل ہو گئی کہ خانہ داری کے امور سر انجام نہیں دے سکتی۔اور مرد از راہ ہمدردی یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسے علیحدہ کرے یا رحم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر مرد کی طبعی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتی تو ایسی صورت میں اگر نکاح ثانی کی اجازت نہ ہو تو بتلاؤ کیا اس سے بدکاری اور بد اخلاقی کو ترقی نہ ہوگی ؟ پھر اگر کوئی مذہب و شریعت کثرت ازدواج کو روکتی ہے تو یقینا وہ بدکاری اور بداخلاقی کی مؤید ہے۔لیکن اسلام جو دنیا سے بداخلاقی اور بدکاری کو دور کرنا چاہتا ہے اجازت دیتا ہے کہ اسی ضرورتوں کے لحاظ سے ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ایسا ہی اولاد کے نہ ہونے پر جبکہ لاولد کے پس مرگ خاندان میں بہت سے ہنگامے اور کشت وخون ہونے تک نوبت پہنچ جاتی ہے ایک ضروری امر ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کر کے اولاد پیدا کرے۔بلکہ ایسی صورت میں نیک اور شریف بیبیاں خود اجازت دے دیتی ہیں۔پس جس قدر غور کرو گے یہ مسئلہ صاف اور روشن نظر آئے گا۔عیسائی کو تو حق ہی نہیں پہنچتا کہ اس مسئلہ پر نکتہ چینی کرے۔کیونکہ ان کے مسلمہ نبی اور ملہم بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بزرگوں نے سات سات سو اور تین تین سو بیبیاں کیں اور اگر وہ کہیں کہ وہ فاسق فاجر تھے تو پھر ان کو اس بات کا جواب دینا مشکل ہوگا کہ ان کے الہام خدا کے الہام کیوں کر ہو سکتے ہیں عیسائیوں میں بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو نبیوں کی شان میں ایسی گستاخیاں جائز نہیں رکھتے علاوہ ازیں انجیل میں صراحت سے اس مسئلہ کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔لنڈن کی عورتوں کا زور ایک باعث ہو گیا کہ دوسری عورت نہ کریں پھر اس کے نتائج خود دیکھ لو کہ لنڈن اور پیرس میں عفت اور تقویٰ کی کیسی قدر ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ صفحه ۸) عیسائیوں نے جو مسیح کو خدا بناتے ہیں باوجود خدا بنانے کے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور باتوں کے علاوہ ایک نئی بات مجھے معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ سے معلوم ہوا ہے کہ جس یوسف کے ساتھ حضرت مریم کی شادی ہوئی اس کی ایک بیوی پہلے بھی موجود تھی اب غور طلب یہ امر ہے کہ یہودیوں نے تو اپنی شرارت سے اور حد سے بڑھی ہوئی شوخی سے حضرت مسیح کی پیدائش کو نا جائز قرار دیا۔اور انہوں نے یہ ظلم پر ظلم کیا کہ ایک تار کہ اور نذر دی ہوئی لڑکی کا اپنی شریعت کے خلاف نکاح کیا اور پھر حمل میں نکاح کیا۔اس طرح پر انہوں نے شریعت موسوی کی توہین کی اور با ایں حضرت مسیح کی پاک پیدائش پر نکتہ چینی کی اور ایسی نکتہ چینی جس کو ہم سن بھی نہیں سکتے ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے کیا کیا ؟ عیسائیوں نے حضرت مسیح کی کہ پیدائش کو تو بے شک اعتقادی طور پر روح القدس کی پیدائش قرار دیا اور خود خدا ہی کو مریم کے پیٹ سے پیدا