تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 279
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۹ سورة النساء تعلق کا اس کے دامنگیر ہے تو ہم کیوں کر سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے تمام اہل وعیال اور ملکیت اور مال پر خدا کو مقدم کر لیا ہے اور بے امتحان ہم اس کے کیوں کر قائل ہو سکتے ہیں اگر ہمارے سید ومولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں نہ کرتے تو ہمیں کیوں کر سمجھ آسکتا کہ خدا کی راہ میں جانفشانی کے موقع پر آپ ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی مگر آپ نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لا کر صد ہا امتحانوں کے موقع پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ کو جسمانی لذات سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجردانہ زندگی ہے کہ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیار کالڑ کے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا۔ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جولخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے لکھتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں۔کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے ایک مرتبہ ایک جنگ کے موقع پر آپ کی انگلی پر تلوارلگی اور خون جاری ہو گیا تب آپ نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے کہا کہ اے انگلی تو کیا چیز ہے صرف ایک انگلی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہوگئی۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں تب عمر کو یہ حال دیکھ کر رونا آیا۔آپ نے فرمایا کہ اے عمر تو کیوں روتا ہے۔حضرت عمر نے عرض کی کہ آپ کی تکالیف کو دیکھ کر مجھے رونا آ گیا۔قیصر اور کسری جو کافر ہیں آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور آپ ان تکالیف میں بسر کرتے ہیں۔تب آنجناب نے فرمایا کہ مجھے اس دنیا سے کیا کام! میری مثال اس سوار کی ہے کہ جو شدت گرمی کے وقت ایک اونٹنی پر جارہا ہے اور جب دو پہر کی شدت نے اس کو سخت تکلیف دی تو وہ اسی سواری کی حالت میں دم لینے کے لیے ایک درخت کے سایہ کے نیچے ٹھہر گیا اور پھر چند منٹ کے بعد اسی گرمی میں اپنی راہ لی۔اور آپ کی بیویاں بھی بجز حضرت عائشہ کے سب سن رسیدہ تھیں بعض کی عمر ساٹھ برس تک پہنچ چکی تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تعدد ازواج سے یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں مقاصد دین شائع کیے جائیں اور اپنی صحبت میں رکھ کر علم دین ان کو سکھایا جائے تا وہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے ہدایت دے سکیں۔