تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 246
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۶ سورة ال عمران ہو گیا ہے اور یہی امور ہیں جو میری ضرورت کے داعی ہیں۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷رستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۶) یہ کیا ہی مبارک اجماع تھا اگر یہ اجماع نہ ہوتا تو بڑا بھاری فتنہ اسلام میں پیدا ہوتا۔اسلام میں سب سے پہلا اجماع : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ہی پر ہوا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا منشاء تو اس صدمہ ہی کو دور کرنا تھا اور وہ مرگ یاراں جشنے دارد ہی سے دور ہونا تھا۔اگر اس آیت کے استدلال میں حضرت مسیح کو مستی کیا جاتا تو صحابہ کے درد کا کیا علاج ہوتا ؟ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسیح سے کم درجہ پر تھے جو زندہ نہ رہتے ؟ قد خلت کے معنے تو خود اسی آیت میں آفابن مات او قتل نے کر دیے ہیں کیا اس میں رُفِعَ بِجَسَدِهِ الْعُنْصُرِی بھی کہیں لکھا ہے؟ غرض جس طرح پر کسی کی قوت شامہ ماری جاوے تو اسے خوشبو کا حاسہ نہیں رہتا اسی طرح پر ان لوگوں کی ایمانی قوت شامہ مرگئی ہے جو مسیح کوزندہ آسمان پر لے جاتے ہیں اگر یہ عقیدہ صحیح ہے تو پھر حالت بہت خطرناک ہے یہی عقیدہ ان کی خدائی کی پہلی اینٹ قرار دیا گیا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۷ اسرا گست ۱۹۰۵ صفحه ۴) کہتے ہیں کہ خلت کے معنے موت کے نہیں مگر یہ تو ان کی غلطی ہے اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے خَلتُ کے معنے کر دئیے ہیں آفاین ماتَ اَوْ قُتِل اگر اس کے سوا کوئی اور معنے ہوتے جو یہ کرتے ہیں تو پھر دُفع بِجَسَدِهِ الْعُنصري بھی ساتھ ہوتا۔مگر قرآن شریف میں تو ہے نہیں، پھر ہم کیوں کر تسلیم کر لیں۔ایسی صورت میں درمیانی زمانہ کی شہادت کو ہم کیا کریں؟ اور پھر تعجب یہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اس مذہب کے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس کی وفات کا اقرار کیا ہے۔(الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر پہلا اجماع یہی کیا کہ مسیح فوت ہو گیا جیسا کہ بار ہا میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی وفات پر تلوار نکال لی اور کہا کہ اگر کوئی آپ کو مردہ کہے گا تو اس کا سر اڑا دوں گا اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا : مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر سب رسول وفات پاچکے ہیں۔اب بتاؤ اس میں مسیح یا کسی اور کی کیا خصوصیت ہے؟ کیا حضرت ابو بکر نے کسی کو باہر رکھ لیا تھا اور صحابہ کب گوارا کر سکتے تھے کہ وہ کسی اور کو تو ندہ تسلیم کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تجویز کریں کہ آپ نے وفات پائی ہے غرض صحابہ کا اجماع بھی موت پر مہر کرتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ صفحه ۴)