تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 246

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۶ سورة ال عمران - ہو گیا ہے اور یہی امور ہیں جو میری ضرورت کے داعی ہیں ۔ (الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۷ ارستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۶) یہ کیا ہی مبارک اجماع تھا اگر یہ اجماع نہ ہوتا تو بڑا بھاری فتنہ اسلام میں پیدا ہوتا ۔ اسلام میں سب سے پہلا اجماع : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ہی پر ہوا ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا منشاء تو اس صدمہ ہی کو دور کرنا تھا اور وہ مرگِ یاراں جشنی دارد ہی سے دور ہونا تھا۔ اگر اس آیت کے استدلال میں حضرت مسیح کو مستثنیٰ کیا جاتا تو صحابہ کے درد کا کیا علاج ہوتا ؟ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسیح سے کم درجہ پر تھے جو زندہ نہ رہتے ؟ قَد خَلَتْ کے معنے تو خود اسی آیت میں آفابِنُ مَاتَ او قتل نے کر دیئے ہیں کیا اس میں رُفِعَ بِجَسَدِهِ الْعُنْصُرِی بھی کہیں لکھا ہے؟ غرض جس طرح پر کسی کی قوت شامہ ماری جاوے تو اسے خوشبو کا حاسہ نہیں رہتا اسی طرح پر ان لوگوں کی ایمانی قوت شامہ مرگئی ہے جو سیح کو زندہ آسمان پر لے جاتے ہیں اگر یہ عقیدہ صحیح ہے تو پھر حالت بہت خطرناک ہے۔ یہی عقیدہ ان کی خدائی کی پہلی اینٹ قرار دیا گیا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ء صفحه ۴) کہتے ہیں کہ خلت کے معنے موت کے نہیں مگر یہ تو ان کی غلطی ہے اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے خکت کے معنے کر دیئے ہیں آفَا بِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ اگر اس کے سوا کوئی اور معنے ہوتے جو یہ کرتے ہیں تو پھر دُفع بِجَسَدِهِ الْعُنْصُرِ بھی ساتھ ہوتا ۔ مگر قرآن شریف میں تو ہے نہیں، پھر ہم کیوں کر تسلیم کر لیں ۔ ایسی صورت میں درمیانی زمانہ کی شہادت کو ہم کیا کریں؟ اور پھر تعجب یہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اس مذہب کے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس کی وفات کا اقرار کیا ہے۔ (الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر پہلا اجماع یہی کیا کہ مسیح فوت ہو گیا جیسا کہ بارہا میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی وفات پر تلوار نکال لی اور کہا کہ اگر کوئی آپ کو مردہ کہے گا تو اس کا سر اڑا دوں گا اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر سب رسول وفات پا چکے ہیں ۔ اب بتاؤ اس میں مسیح یا کسی اور کی کیا خصوصیت ہے؟ کیا حضرت ابو بکر نے کسی کو باہر رکھ لیا تھا اور صحابہ کب گوارا کر سکتے تھے کہ وہ کسی اور کو تو زندہ تسلیم کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تجویز کریں کہ آپ نے وفات پائی ہے غرض الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۴) صحابہ کا اجماع بھی موت پر مہر کرتا ہے۔ -