تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 245
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۵ سورة ال عمران آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نسبت لکھا ہے آفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ جس سے قتل انبیاء کا جواز معلوم ہوتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ رستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۵۷) اس پیغمبر کی شان میں جو افضل الرسل ہے یہ بے ادبی نہ کرو کہ حضرت مسیح کو اس سے افضل قرار دو۔کیا تم نہیں جانتے کہ آپ کی وفات پر صحابہ کی کیا حالت ہوئی تھی؟ وہ دیوانہ وار پھرتے تھے آپ کی زندگی ان کو ایسی عزیز تھی کہ حضرت عمر نے تلوار کھینچ لی تھی کہ اگر کوئی آپ کو مردہ کہے گا تو میں اس کا سر اڑا دوں گا۔اس شور پر حضرت ابو بکر آئے اور انہوں نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا کہ آپ پر خدا دو موتیں جمع نہ کرے گا اور پھر یہ آیت پڑھی: مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول ہیں آپ سے پہلے جس قدر رسول آئے ہیں سب وفات پاگئے ہیں صحابہ نے جب اس آیت کو سنا تو انہیں ایسا معلوم ہوا کہ گویا یہ آیت اب اتری ہے انہوں نے معلوم کیا کہ آپ کے مقابلہ میں کوئی اور زندہ نہیں ہے۔تم میں وہ عشق اور محبت نہیں جو صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علی وسلم سے تھی ورنہ تم یہ بھی روا نہ رکھتے کہ مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل زندہ کہتے میں سچ کہتا ہوں کہ اگر صحابہ کے سامنے اس وقت کوئی کہتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو ان میں سے ایک بھی زندہ نہ رہتا وہ اس قدر آپ کے عشق اور محبت میں فنا شدہ تھے۔حسان بن ثابت نے اس موقعہ پر ایک مرشہ لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں۔كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی اے میرے پیارے نبی ! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھی اور میرے دیدوں کا نور تھا پس میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا اب تیرے بعد میں دوسروں کی موت کا کیا غم کروں ؟ عیسی مرے یا موسیٰ مرے، کوئی مرے مجھے تو تیرے ہی مرنے کا غم تھا۔صحابہ کی تو یہ حالت تھی مگر اس زمانہ میں اپنے منہ سے اقرار کرتے ہیں کہ نہیں ! افضل الانبیاء وفات پاگئے اور حضرت مسیح زندہ ہیں۔افسوس ! مسلمانوں کی حالت کیا سے کیا ہو گئی ؟ میں خوب جانتا ہوں اور اس واقعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا پہلا اجتماع مسیح کی وفات ہی پر ہوا تھا پھر ان کے خلاف کرنا یہ کون سی عقلمندی اور تقویٰ ہے میں یہ مانتا ہوں کہ یہ غلطیاں امتداد زمانہ کی وجہ سے ہیں ، تقویٰ نہیں رہا، جہالت بڑھ گئی ہے، رو بحق ہونا کم ہو گیا ہے، راہ راست مجوب