تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 247
۲۴۷ سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلیل قاطع ہے جو اس آیت کے رو سے اجماع تھا: مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ (البدر جلد نمبر ۳۳ مورخه ۶ /نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۴) خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ہر بات کو قبل از وقت سمجھتا ہے اس لیے جب اس کی کوئی محبوب چیز جاتی رہے تو پھر ضر ور غمگین ہوتا ہے یہ ایک فطرتی تقاضا ہے صحابہ کی حالت کا کون انداز کرسکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تھی ان کو تو قریباً ایک قسم کا جنون ہو گیا تھا اس غم میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں ان پر آیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوتو وہ جوش آیا کہ انہوں نے تلوار ہی نکال لی کہ جو شخص کہے گا کہ آپ وفات پاگئے ہیں میں اسے قتل کر دوں گا گویا وہ یہ لفظ بھی سنا نہ چاہتے تھے پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور آیت : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پڑھی تو ان کا جوش فرو ہوا۔یہ آیت دراصل ایک جنگ میں نازل ہوئی تھی جبکہ شیطان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی آواز دی گئی مگر اس وقت جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو پڑھا تو صحابہ سمجھتے تھے کہ گویا یہ آیت ابھی اتری ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) عقیدہ میں یہ بات ہے کہ حضرت عیسی کو ہم اور نبیوں کی طرح فوت شدہ مانتے ہیں اور ایک مسلمان کی محبت جو اسے اپنے متبوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ جب آپ فوت ہو گئے تو ان کے بعد کسی کو زندہ نہ سمجھے۔صحابہ کرام کس قدر درد والم میں تھے جب : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سنا تو سب کو ٹھنڈ پڑ گئی۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۷ صفحه ۶) خلت کا لفظ قرآن شریف کے محاورے میں ہر گز کسی ایسے شخص کے واسطے استعمال نہیں ہوا جو زندہ ہو بلکہ ہمیشہ وفات یافتہ لوگوں پر ہی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہی معنے کیسے ہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر جب حضرت عمر نے جوش محبت اور وفور الفت کی وجہ سے تلوار کھینچ لی تھی اور آپ ننگی تلوار لیے گلیوں میں پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اس کی گردن مار دوں گا۔