تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 237

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۷ سورة ال عمران میں ابھی بیان کر چکا ہوں خدا تعالیٰ نے انہیں آیات میں حکت کے لفظ کی خود تشریح فرما دی ہے اور حکت کے مفہوم کو صرف موت اور قتل میں محدود کر دیا ہے۔یہی آیت شریفہ ہے جس کی رو سے صحابہ رضی اللہ عَنْهُمْ کا اس بات پر اجماع ہو گیا تھا کہ تمام نبی اور رسول فوت ہو چکے ہیں اور کوئی ان میں سے دنیا میں واپس آنے والا نہیں بلکہ اس اجماع کی اصل غرض یہی تھی کہ دنیا میں واپس آنا کسی کے لئے ممکن نہیں اور اس اجماع سے اس خیال کا ازالہ مطلوب تھا کہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں آیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر دنیا میں واپس آئیں گے اور منافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ اگر اسلام میں کسی نبی کا دنیا میں واپس آنا تسلیم کیا جاتا تو اس آیت کے پڑھنے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خیال کا ازالہ غیر ممکن ہوتا اور ایسی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی کسر شان تھی بلکہ ایسی صورت میں حضرت ابوبکر کا اس آیت کو پڑھنا ہی بے محل تھا۔غرض یہ آیت بھی وہ عالی شان آیت ہے کہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا بلند آواز سے اعلان کرتی ہے۔فالحمد لله على ذالك (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۲،۳۹۱) میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی ضرورت دنیا اور مسلمانوں کو تھی اس قدر ضرورت مسیح کے وجود کی نہیں تھی۔پھر آپ کا وجود باجود وہ مبارک وجود ہے کہ جب آپ نے وفات پائی تو صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ دیوانے ہو گئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوارمیان سے نکال لی اور کہا کہ اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مردہ کہے گا تو میں اس کا سر جدا کر دوں گا اس جوش کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک خاص نور اور فراست عطا کی انہوں نے سب کو اکٹھا کیا اور خطبہ پڑھا: مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر جس قدر رسول آئے وہ سب وفات پاچکے۔اب آپ غور کریں اور سوچ کر بتائیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ آیت کیوں پڑھی تھی اور اس سے آپ کا کیا مقصد اور منشاء تھا اور پھر ایسی حالت میں کہ کل صحابہ موجود تھے میں یقیناً کہتا ہوں اور آپ انکار نہیں کر سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے صحابہ کے دل پر سخت صدمہ تھا اور اس کو بے وقت اور قبل از وقت سمجھتے تھے وہ پسند نہیں کر سکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنیں ایسی حالت اور صورت میں کہ حضرت عمر رضی اللہ جیسا جلیل القدر صحابی اس جوش کی حالت میں ہو ان کا غصہ فرو نہیں ہوسکتا