تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 238
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۸ سورة ال عمران بجز اس کے کہ یہ آیت ان کی تسلی کا موجب ہوتی اگر انہیں یہ معلوم ہوتا یا یہ یقین ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ تو زندہ ہی مر جاتے وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق تھے اور آپ کی حیات کے سوا کسی اور کی حیات کو گوارا ہی نہ کر سکتے تھے پھر کیوں کر اپنی آنکھوں کے سامنے آپ کو وفات یافتہ دیکھتے اور مسیح کو زندہ یقین کرتے یعنی جب حضرت ابو بکر نے خطبہ پڑھا تو ان کا جوش فرو ہو گیا اس وقت صحابہ مدینہ کی گلیوں میں یہ آیت پڑھتے پھرتے تھے اور وہ سمجھے تھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے۔اس وقت حسان بن ثابت نے ایک مرثیہ لکھا جس میں انہوں نے کہا: كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَين عليك عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ چونکہ مذکورہ بالا آیت نے بتادیا تھا کہ سب مر گئے اس لیے حسان نے بھی کہہ دیا کہ اب کسی کی موت کی پروا نہیں۔یقیناً سمجھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی کی زندگی صحابہ پر سخت شاق تھی اور ڈو ان کو گوارا نہیں کر سکتے تھے اس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ پہلا اجماع تھا جو دنیا میں ہوا اور اس میں حضرت مسیح کی وفات کا بھی کلی فیصلہ ہو چکا تھا میں بار بار اس امر میں اس لیے زور دیتا ہوں کہ یہ دلیل بڑی ہی زبردست دلیل ہے جس سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کوئی معمولی اور چھوٹا امر نہ تھا جس کا صدمہ صحابہ کو نہ ہوا ہو۔ایک گاؤں کا نمبر دار یا محلہ دار یا گھر کا کوئی عمدہ آدمی مر جاوے تو گھر والوں ، محلہ والوں یا دیہات والوں کو صدمہ ہوتا ہے پھر وہ نبی جو کل دنیا کے لیے آیا تھا اور رحمتہ للعالمین ہو کر آیا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے : وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلا رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ۱۰۸)۔اور پھر دوسری جگہ فرمایا: قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) پھر وہ نبی جس نے صدق اور وفا کا نمونہ دکھایا اور وہ کمالات دکھائے کہ جن کی نظیر نظر نہیں آتی وہ فوت ہو جاوے اس کے ان جاں نثار متبعین پر اثر نہ پڑے جنہوں نے اس کی خاطر جانیں دے دینے سے دریغ نہ کیا، جنہوں نے وطن چھوڑا ، خویش واقارب چھوڑے اور اس کے لیے ہر قسم کی تکلیفوں اور مشکلات کو اپنے لیے راحت جان سمجھا۔ایک ذرا سے فکر اور توجہ سے یہ بات سمجھ میں آجاتی کہ جس قدر بھی دکھ اور تکلیف انہیں اس خیال کے تصور سے ہو سکتا ہے اس کا اندازہ اور قیاس ہم نہیں کر سکتے ان کی تسلی اور تسکین کا موجب یہی آیت تھی کہ حضرت ابوبکر نے پڑھی۔