تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 236
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۳۶ سورة ال عمران صحابہ جو زندہ تھے مدینہ میں موجود تھے پس سب کو جمع کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے منبر پر چڑھ کر یہ آیت پڑھی: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى اعقابکم یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف نبی ہیں اور پہلے اس سے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔پس کیا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو تم لوگ دین کو چھوڑ دو گے؟ یہ پہلا اجماع تھا جو صحا بہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ میں ہوا۔جس سے ثابت ہوا کہ کل نبی فوت ہو چکے ہیں جن میں حضرت عیسی بھی داخل ہیں اور یہ کہنا کہ خلت کے معنوں میں زندہ آسمان پر جانا بھی داخل ہے یہ سراسر ہٹ دھرمی ہے کیونکہ عرب کی تمام لغت دیکھنے سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ زندہ آسمان پر جانے کے لئے بھی خلت کا لفظ آ سکتا ہے۔ماسوا اس کے اس جگہ اللہ تعالیٰ نے خَلَت کے معنے دوسرے فقرہ میں خود بیان فرما دیئے ہیں کیونکہ فرمایا: آفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ۔پس خَلَت کے معنے دوصورتوں میں محدود کر دیئے ؛ ایک یہ کہ طبعی موت سے مرنا، دوسرے قتل کئے جانا۔ورنہ تشریح یوں ہونی چاہئے تھی : أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ أَوْ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ مَعَ جِسْمِهِ الْعُنْصُری یعنی اگر مر جائے یا قتل کیا جائے یا مع جسم آسمان پر اٹھادیا جائے۔یہ تو بلاغت کے بر خلاف ہے کہ جس قدر معنوں پر خلت کا لفظ بقول مخالفین مشتمل تھا۔ان میں سے صرف دو معنے لئے اور تیسرے کا ذکر تک نہ کیا۔ماسوا اس کے اصل مطلب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ تھا کہ دوسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہیں آئیں گے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دینے کے وقت حضرت ابو بکر نے اس کی تصریح بھی کر دی تھی تو بہر حال مخالف کو ماننا پڑے گا کہ کسی طرح حضرت عیسی دنیا میں نہیں آسکتے گو بفرض محال زندہ ہوں ورنہ غرض استدلال باطل ہو جائے گی اور یہ صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۳۷۶،۳۷۵ حاشیه ) یہ صحیح نہیں ہے کہ خلت کا لفظ اور تمام نبیوں کے لئے تو وفات دینے کے لئے آتا ہے مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے ان معنوں پر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو مع جسم عنصری آسمان پر اٹھا لیا۔یہ دعوی سراسر بے دلیل ہے۔اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی گئی بلکہ جہاں جہاں قرآن شریف میں خَلتُ کا لفظ آیا ہے وفات کے معنوں پر ہی آیا ہے اور کوئی شخص قرآن شریف سے ایک بھی ایسی نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ان معنوں پر آیا ہو کہ کوئی شخص مع جسم عصری آسمان پر اٹھایا گیا۔ماسوا اس کے جیسا کہ