تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 234
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۴ سورة ال عمران فوت ہو چکے ہیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے عہد میں یہی معنے آیت: مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کے کئے گئے یعنی سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس کیا حضرت عیسی رسول نہیں تھے جو فوت سے باہر رہ گئے پھر باوجود اس اجماع کے فیج اعوج کے زمانہ کی تقلید کر نادیانت سے بعید ہے۔امام مالک کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں۔پس جبکہ سلف الائمہ کا یہ مذہب ہے تو دوسروں کا بھی یہی مذہب ہوگا۔اور جن بزرگوں نے اس حقیقت کے سمجھنے میں خطا کی وہ خطا خدا تعالیٰ کے نزدیک درگزر کے لائق ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۶،۵۵) اسلام میں سب سے پہلا اجماع یہی تھا کہ تمام نبی فوت ہو گئے ہیں کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو بعض صحابہ کا یہ بھی خیال تھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے اور پھر دنیا میں واپس آئیں گے اور منافقوں کی ناک اور کان کاٹیں گے تو اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سب کو مسجد نبوی میں جمع کیا اور یہ آیت پڑھی: مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ يعنى آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی ہیں اور تمام انبیاء گزشتہ پہلے ان سے فوت ہو چکے ہیں۔تب صحابہ جو سب کے سب موجود تھے رضی اللہ عنہم سمجھ گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے شک فوت ہو گئے اور انہوں نے یقین کر لیا کہ کوئی نبی بھی زندہ نہیں اور کسی نے اعتراض نہ کیا کہ حضرت عیسی اس آیت کے مفہوم سے باہر ہیں اور وہ اب تک زندہ ہیں۔اور کیا ممکن تھا کہ عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر راضی ہو سکتے کہ ان کا نبی تو چھوٹی سی عمر میں فوت ہو گیا اور عیسی چھ سو برسوں سے زندہ چلا آتا ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا بلکہ وہ تو اس خیال سے زندہ ہی مر جاتے پس اسی وجہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سب کے سامنے یہ آیت پڑھ کر ان کو تسلی دی : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور اس آیت نے ایسا اثر صحابہ کے دل پر کیا کہ وہ مدینہ کے بازاروں میں یہ آیت پڑھتے پھرتے تھے گویا اُسی دن وہ نازل ہوئی تھی۔اور اسلام میں یہ اجماع تمام اجتماعوں سے پہلا تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔معلوم ہوتا ہے کہ اس اجماع سے پہلے جو تمام انبیاء علیہم السلام کی وفات پر ہوا بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ ابھی اس عقیدہ سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے صدیق رضی اللہ عنہ کو اس آیت کے عنانے کی ضرورت پڑی اور اس آیت کے سننے کے بعد سب نے یقین کر لیا که تمام گزشتہ لوگ داخل قبور ہو چکے ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۸۵،۲۸۴)