تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 235

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۵ سورة ال عمران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اس امت پر اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کا شکر نہیں ہوسکتا اگر وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد نبوی میں اکٹھے کر کے یہ آیت نہ سناتے کہ تمام گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تو یہ امت ہلاک ہو جاتی کیونکہ ایسی صورت میں اس زمانے کے مفسد علماء یہی کہتے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسی زندہ ہیں۔مگر اب صدیق اکبر کی آیت مدوحہ پیش کرنے سے اس بات پر کل صحابہ کا اجماع ہو چکا کہ کل گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں بلکہ اس اجماع پر شعر بنائے گئے۔ابوبکر کی روح پر خدا تعالیٰ ہزاروں رحمتوں کی بارش کرے اُس نے تمام روحوں کو ہلاکت سے بچالیا اور اس اجتماع میں تمام صحابہ شریک تھے۔ایک فرد بھی ان میں سے باہر نہ تھا اور یہ صحابہ کا پہلا اجماع تھا اور نہایت قابل شکر کارروائی تھی۔اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور مسیح موعود کی باہم ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ قرآن شریف میں دونوں کی نسبت یہ تھا کہ جب ایک خوف کی حالت اسلام پر طاری ہوگی اور سلسلہ مرتد ہونے کا شروع ہو گا تب ان کا ظہور ہوگا سو حضرت ابوبکر اور مسیح موعود کے وقت میں ایسا ہی ہوا۔یعنی حضرت ابوبکر کے وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صد ہا جاہل عرب مرتد ہو گئے تھے اور صرف دو مسجد میں باقی تھیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی۔حضرت ابو بکر نے دوبارہ ان کو اسلام پر قائم کیا ایسا ہی مسیح موعود کے وقت میں کئی لاکھ انسان اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی بن گئے اور یہ دونوں حالات قرآن شریف میں مذکور ہیں یعنی پیشگوئی کے طور پر ان کا ذکر ہے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۸۶،۲۸۵ حاشیه ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم کو آپ کی وفات سے سخت صدمہ گزرا تھا اور اسی صدمہ کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے بعض منافقوں کے کلمات سن کر فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور منافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے۔پس چونکہ یہ خیال غلط تھا اس لئے اول حضرت ابوبکر صدیق حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر آئے اور آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر سے چادر اٹھا کر پیشانی مبارک کو بوسہ دیا اور کہا : أنت طيب حَيًّا وَ مَيْتًا لَن تَجْمَعَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْمَوْتَيْنِ إِلَّا مؤتتك الأولى یعنی تو زندہ اور میت ہونے کی حالت میں پاک ہے خدا تعالیٰ ہرگز تیرے پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا مگر پہلی موت۔اس قول سے مطلب یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں واپس نہیں آئیں گے اور پھر تمام اصحاب رضی الله عَنْهُمْ کو مسجد نبوی میں جمع کیا اور حسن اتفاق سے اس دن تمام