تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 233

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی صالح مومن کا کام نہیں۔۲۳۳ سورة ال عمران تحفه غزنویہ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۸۰ حاشیه ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سید نامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مر گئے ہیں تو میں اس کو اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بہت غلو ہو گیا تھا اور وہ اس کلمہ کو جو آنحضرت مر گئے کلمہ کفر اور ارتداد سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ ہزار ہا نیک اجر حضرت ابوبکر کو بخشے کہ جلد تر اُنہوں نے اس فتنہ کو فرو کر دیا اور نص صریح کو پیش کر کے بتلا دیا کہ گزشتہ تمام نبی مرگئے ہیں اور جیسا کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کو قتل کیا در حقیقت اس تصریح سے بھی بہت سے پیج اعوج کے کہڈ ابوں کو تمام صحابہ کے اجتماع سے قتل کر دیا گویا چار کذاب نہیں بلکہ پانچ کذاب مارے۔یا الہی ان کی جان پر کروڑ با رحمتیں نازل کر آمین۔اگر اس جگہ خلت کے یہ معنے کئے جائیں کہ بعض نبی زندہ آسمان پر جا بیٹھے ہیں تب تو اس صورت میں حضرت عمر حق بجانب ٹھہرتے ہیں اور یہ آیت ان کو مضر نہیں بلکہ اُن کی موید ٹھہرتی ہے۔لیکن اس آیت کا اگلا فقرہ جو بطور تشریح ہے یعنی : آقاین ماتَ أَوْ قُتِل جس پر حضرت ابوبکر کی نظر جا پڑی ظاہر کر رہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے لینا کہ تمام نبی گزر گئے گو مر کر گزر گئے یا زندہ ہی گزر گئے یہ دجل اور تحریف اور خدا کی منشاء کے برخلاف ایک عظیم افترا ہے اور ایسے افتر اعمد ا کرنے والے جو عدالت کے دن سے نہیں ڈرتے اور خدا کی اپنی تشریح کے برخلاف اُلٹے معنے کرتے ہیں وہ بلا شبہ ابدی لعنت کے نیچے ہیں۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اُس وقت تک اس آیت کا علم نہیں تھا اور دوسرے بعض صحابہ بھی اسی غلط خیال میں مبتلا تھے اور اُس سہو ونسیان میں گرفتار تھے جو مقتضائے بشریت ہے اور ان کے دل میں تھا کہ بعض نبی اب تک زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔پھر کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مانند نہ ہوں۔لیکن حضرت ابو بکر نے تمام آیت پڑھ کر اور آفَابِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِل سنا کر دلوں میں بٹھا دیا کہ خلت کے معنے دو قسم میں ہی محصور ہیں (۱) حتف انف سے مرنا یعنی طبیعی موت۔(۲) مارے جانا۔تب مخالفوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور تمام صحابہ اس کلمہ پر متفق ہو گئے کہ گزشتہ نبی سب مر گئے ہیں اور فقرہ آفابن ماتَ أَوْ قُتِل کا بڑا ہی اثر پڑا اور سب نے اپنے مخالفانہ خیالات سے رجوع کرلیا۔فالحمد لله على ذالك! تحفه غزنویہ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۸۲،۵۸۱ حاشیه ) سب کو معلوم ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وقت میں تمام صحابہ کا اجماع ہو چکا ہے کہ تمام نبی