تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 232

۲۳۲ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران ہیں اور اگر یہ نہیں تو بھلا ہوش کر کے اور خدا سے ڈر کر بتلاؤ کہ اس مخالفت کے وقت میں جو حضرت ابوبکر کی رائے اور حضرت عمر کی رائے میں واقع ہوئی تھی جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی رائے کی تائید میں یہی پیش کرتے تھے کہ حضرت عیسی زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھائے جائیں گے اور پھر کیوں ممتنع اور محال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با وجود بہتر اور افضل ہونے کے حضرت مسیح کی طرح آسمان پر نہ اُٹھائے جائیں۔اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر کی رائے کے رو کرنے میں جو آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پڑھی اس سے اُن کا اگر یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت عیسی بھی جن کا حوالہ دیا جاتا ہے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اور کیا مطلب تھا اور کیوں کر حضرت عمر کے خیال کا بجز اس کے ازالہ ہوسکتا تھا اور آپ کا یہ کہنا کہ اس پر اجماع نہیں ہوا۔یہ ایسا صریح جھوٹ ہے کہ بے اختیار رونا آتا ہے کہ کہاں تک آپ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔اے عزیز ! بخاری میں تو اس جگہ کُلھم کا لفظ موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ کل صحابہ اُس وقت موجود تھے اور لشکر اسامہ جو میں ہزار آدمی تھا اس مصیبت عظمیٰ واقعہ خیر الرسل سے رُک گیا تھا اور وہ ایسا کون بے نصیب اور بد بخت تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنی اور فی الفور حاضر نہ ہوا۔بھلا کسی کا نام تولو۔ماسوا اس کے اگر فرض بھی کر لیں کہ بعض صحابہ غیر حاضر تھے تو آخر مہینہ، دو مہینہ، چھ مہینہ کے بعد ضرور آئے ہوں گے پس اگر انہوں نے کوئی مخالفت ظاہر کی تھی اور آیت قد خَلَتْ کے اور معنے کئے تھے تو آپ اس کو پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو پس یہی ایمان اور دیانت کے برخلاف ہے کہ ایسے جامع اجماع کے برخلاف آپ عقیدہ رکھتے ہیں حضرت مسیح کی موت پر یہ ایک ایسا زبردست اجماع ہے کہ کوئی بے ایمان اس سے انکار کرے تو کرے ، نیک بخت اور متقی آدمی تو ہرگز اس سے انکار نہیں کرے گا اب بتلاؤ کہ حضرت مسیح کی موت پر اجماع تو ہوازندگی پر کہاں اجماع ثابت ہے ۲۰۰ ( تحفه غزنویه، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۷۷ ۵ تا ۵۸۷) اس آیت کا اگلا فقرہ یعنی آقا بنُ مَاتَ اَوْ قُتِلَ صاف بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گزر جانا صرف دو قسم پر ہے یا بذریعہ موت حتف آنف اور یا بذریعہ قتل اور خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرما یا کہ گزرجانا اس طرح بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص زندہ جسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔پس جبکہ خدا تعالیٰ نے گزر جانے کی تشریح لفظ آفابن مات أو قتل سے آپ کر دی اور اس پر حصر کر دیا تو اس کے بعد نہ ماننا