تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 189
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ سورة ال عمران كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ حضرت احدیت نے جیسا کہ اس امت کا خیر الامم نام رکھا ہے ایسا ہی اس امت کے اکابر کو سب سے زیادہ کمالات بھی بخشے ہیں جو کسی طرح چھپ نہیں سکتے اور اُن سے انکار کرنا ایک سخت درجہ کی حق پوشی ہے۔ اور نیز ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ الزام کہ صحابہ کرام سے ایسے الہامات ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا ت تابت اور غلط ہے کیونکہ احادیث صحیحہ کے رو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے الہامات اور خوارق بکثر ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ساریہ کے لشکر کی خطرناک حالت سے با علام الہی مطلع ہو جانا جس کو بیہقی نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اگر الہام نہیں تھا تو اور کیا تھا ؟ اور پھر ان کی یہ آواز کہ يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ الْجَبَلَ مدینہ میں بیٹھے ہوئے مونہہ سے نکلنا اور وہی آواز قدرت غیبی سے ساریہ اور اس کے لشکر کو دور دراز مسافت سے سنائی دینا اگر خارقِ عادت نہیں تھی تو اور کیا چیز تھی ۔ اسی طرح جناب علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کے بعض الہامات و کشوف مشہور و معروف ہیں ماسوا اس کے میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں اس بارہ میں شہادت دینا تسلی بخش امر نہیں ہے کیا اس نے صحابہ کرام کے حق میں نہیں فرمایا: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ۔ پھر جس حالت میں خدائے تعالیٰ اپنے نبی کریم کے اصحاب کو امم سابقہ سے جمیع کمالات میں بہتر و بزرگ تر ٹھہراتا ہے اور دوسری طرف بطور مشتے نمونہ از خروارے پہلی اُمتوں کے کاملین کا حال بیان کر کے کہتا ہے کہ مریم صدیقہ والدہ عیسی اور ایسا ہی والدہ حضرت موسیٰ اور نیز حضرت مسیح کے حواری اور نیز خضر جن میں سے کوئی بھی نبی نہ تھا یہ جب ملہم من اللہ تھے اور بذریعہ وحی اعلام اسرار غیبیہ سے مطلع کئے جاتے تھے۔ سو اب سوچنا چاہئیے کہ اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُمت محمد یہ کے کامل متبعین اُن لوگوں کی نسبت بوجہ اولی ملہم ومحدث ہونے چاہیئیں کیونکہ وہ حسب تصریح قرآن شریف خیر الامم ہیں ۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۳ تا ۵ ۶۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) غور کی نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ بیضہ بشریت کے روحانی بچے جو روح القدس کی معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت سے پیدا ہوئے وہ اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور نوع اور حالت میں تمام