تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 190
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰ سورة ال عمران انبیاء کے بچوں سے اتم اور اکمل ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے : كُنْتُمْ خَيْرَ أمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی تم سب امتوں سے بہتر ہو جو لوگوں کی اصلاح کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور در حقیقت جس قدر قرآنی تعلیم کے کمالات خاصہ ہیں وہ اس امت مرحومہ کے استعدادی کمالات پر شاہد ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ کی کتابیں ہمیشہ اس قدر نازل ہوتی ہیں جس قدر اس امت میں جو تعمیل کتاب کی مکلف ہے استعداد ہوتی ہے مثلاً انجیل کی نسبت تمام محققین کی یہ رائے ہے کہ اس کی تعلیم کامل نہیں ہے اور وہ ایک ہی پہلو پر چلی جاتی ہے اور دوسرے پہلو کو بکھی چھوڑ رہی ہے لیکن دراصل یہ قصور ان استعدادوں کا ہے جن کے لئے انجیل نازل ہوئی تھی چونکہ خدا تعالیٰ نے انسانی استعدادوں کو تدریجاً ترقی دی ہے اس لئے اوائل زمانوں میں اکثر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے کہ جو غیبی اور بلید اور کم عقل اور کم فہم اور کم دل اور کم ہمت اور کم یقین اور پست خیال اور دنیا کے لالچوں میں پھنسے ہوئے تھے اور دماغی اور دلی قوتیں ان کی نہایت ہی کمزور تھیں مگر ان زمانوں کے بعد ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ زمانہ آیا جس میں رفتہ رفتہ استعداد میں ترقی کر گئیں گویا دنیا نے اپنی فطرتی قومی میں ایک اور ہی صورت بدل لی پس ان کی کامل استعدادوں کے موافق کامل تعلیم نے نزول فرمایا۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۹۸،۱۹۷) اور مجملہ ان دلائل کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا قرآن شریف کی یہ آیت ہے: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم بہترین امت ہو جو اس لئے نکالی گئی ہو کہ تاتم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فروکر کے اور اُن کے شر کو دفع کر کے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچاؤ۔واضح رہے کہ قرآن شریف میں الناس کا لفظ بمعنی وجال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ تو یہ تعین کرے تو پھر اور معنے کرنا معصیت ہے چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنے دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے : لَخَلْقُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ (المؤمن : ۵۸)۔یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اسرار اور عجائبات پر ہیں دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں۔یعنی گووہ لوگ اسرار زمین و آسمان کے معلوم کرنے میں کتنی ہی جانکا ہی کریں اور کیسی ہی طبع وقا دلاویں پھر بھی ان کی طبیعتیں ان اسرار کے انتہا تک پہنچ نہیں سکتیں۔یادر ہے کہ اس جگہ بھی مفسرین