تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 188

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٨٨ سورة ال عمران وہ پیشگوئی اس طرح پر ہے کہ تو رات میں لکھا ہے کہ جب ہاجرہ کو اور اسماعیل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام چھوڑ آئے تو ان کے پاس ایک پانی کی مشک دے کر چھوڑ آئے جب وہ ختم ہو گئی اور حضرت اسماعیل پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے اور قریب المرگ ہو گئے تو حضرت ہاجرہ ان کی اس حالت کو نہ دیکھ سکی اور کچھ فاصلے پر جا بیٹھی وہاں لکھا ہے کہ تیر کے پیٹے پر اس وقت ہاجرہ چلائی اور خدا کے فرشتہ نے اس کو پکارا اور کہا کہ اے ہاجرہ ! مت ڈر، اٹھ لڑکے کو اٹھا غرض پھر ہاجرہ کو ایک کنواں نظر آیا جہاں سے اس نے مشک بھری۔ور سو اب غور طلب بات یہ ہے کہ فرشتہ نے جو ہاجرہ کو کنواں دکھایا تھا اسی میں ایک پیشگوئی تھی اس پر میرے دل میں فوراً یہ آیت گزری : وَ كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يبين اللهُ لَكُم أَيته لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ابراہیم کا پانی جب ختم ہو چکا تو اسماعیل قریب المرگ ہو گیا۔اس وقت خدا نے اس سے بچا لیا اور ایک اور کنواں پانی کا اسے دیا گیا۔عرب والے بھی اسماعیل کی اولاد ہونے کے سبب سے گویا اسماعیل ہی تھے جب ہدایت اور شریعت کا ان میں خاتمہ ہو گیا اور قریب المرگ ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ایک نئی شریعت ان پر نازل کی اور یہ اس آیت میں اشارہ ہے۔غرض یہ پیشگوئی ہے جس کی طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں کی۔احکام جلد ۵ نمبر ۴۱ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) وَلَتَكُن مِنْكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔۱۰۵ یعنی تم میں سے ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو نیکی کی دعوت کریں اور امر معروف اور نبی منکر اپنا طریق شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۳۱) رکھیں۔یوم قف تَبْيَضُ وُجُوهٌ وَ تَسْوَدُ وُجُوهٌ ، فَاَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُم * أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ ) یعنی اس دن بعض منہ سیاہ ہو جائیں گے اور بعض سفید اور نورانی ہو جائیں گے۔۔۔روحانی حالتیں مخفی نہیں رہیں گی بلکہ جسمانی طور پر نظر آئیں گی۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۱، ۴۱۲)