تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 165

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۵ سورة ال عمران لازم لاوے ۔ آدم کے باپ اور ماں دونوں نہیں پس جس حالت میں خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا کہ حضرت عیسیٰ میں بے پدر ہونے کی خصوصیت نہ رہے تا ان کی خدائی کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرائی جائے تو پھر کیوں کر ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ میں چار فوق العادت خصوصیتیں کے قبول کر لی ہوں ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۹۸٬۳۹۷ (۳۹۸،۳ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ اگر سیح بنا باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہوئی اور وہ کیا اعتراض مسیح پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا۔ تو اریخی بات بھی یہ ہے کہ یہود آپ کی پیدائش کو اسی لئے ناجائز قرار دیتے تھے کہ آپ کا باپ کوئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہوا تھا بلکہ بلا ماں بھی۔ بہ اعتبار واقعات کے جو اعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چاہیے اور اگر کوئی اسے خلاف قانون قدرت قرار دیتا ہے تو اول قانون قدرت کی حد بہت دکھلاوے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۲۲) بغیر نظیر کے کوئی بات نہیں مانی جاتی عیسائیوں نے جب مسیح کے بن باپ ہونے سے اس کی خدائی کا استدلال کیا تو خدا تعالیٰ نے نظیر بتلاکر ان کی بات کو رد کر دیا، فرمایا: اِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ کہ اگر بن باپ ہونے سے انسان خدا ہو سکتا ہے تو آدم کی تو ماں بھی نہ تھی اسے خدا کیوں نہیں مان لیتے ۔ پس جب نصاری کی اس بات کو خدا نے رد کر دیا تو اگر مسیح بھی واقعی آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی اسے خدائی - کی دلیل گردانتے تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی رد کرتا اور چند ایک نظائر پیش کرتا کہ فلاں فلاں اور نبی زندہ آسمان پر موجود ہیں ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۵) اگر بن باپ پیدا ہونے والا خدا ہو سکتا ہے۔ تو پھر جس کا ماں اور باپ دونوں نہ ہوں وہ تو بدرجہ اولی خدا ہوگا۔ مگر ان کو وہ خدا نہیں مانتے۔ اور ایسا ہی بجلی میں بھی خدائی ماننی چاہیے کیونکہ وہ بانجھ سے پیدا ہوئے تھے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۵ صفحه ۲) اگر بے باپ پیدا ہونا دلیل الوہیت اور امنیت ہے تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بدرجہ ء اولی اس کے اے (۱) وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے (۲) صد ہا سال تک بغیر آب و دانہ کے آسمان پر زندہ رہنے والے ٹھہرے (۳) آسمان پر اتنی مدت تک پیرانہ سالی اور ضعف سے محفوظ رہنے والے ٹھہرے (۴) مدت دراز کے بعد آسمان سے مع ملائک نازل ہونے والے ٹھہرے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۹۵۔ خلاصہ )